ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 136
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۳۶ قصیده يتشرف المَنْظُومُ بِلَثْم كف الإمام الجليل والهام النبيل المجدد الممجد میرزا غلام احمد قادیانی ادام الله تعالی ظله بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الی کم تمادى الهجر يلعب بالصب ا وحتام يبلوه الزمان بذا النكب فهل للمعنى زورة ينطفى بها ۲ بتاريح وجد توقد النار في الجنب الاهل علمتم ما حملت بحبكم و اوزاره من بعدكم انقضت صلبي ابيت على جمر الغضا متقرّعًا ۴ و دمعي طويل الليل يشرح للغرب حرام على جفني الكرى فاسألوا به نجوم الدجى والهدب يجفو عن الهدب (1) نہیں معلوم ہجر کی درازی کب تک عاشق کو ستاتی رہے گی ۔ اور زمانہ اُسکو ان دکھوں میں کب تک مبتلا رکھے گا۔ (۲) کبھی دکھ سہنے والے ( عاشق ) کو بھی ایک بار ملاقات میسر ہو گی ۔ جس سے وہ عشق کی اس جلن کو بجھا سکے جس نے اس کے پہلو میں آگ مشتعل کر رکھی ہے ۔ ہے۔ (۳) ہائے تمہیں کیا خبر ہے؟ کہ میں نے تمہارے عشق میں کیا کیا اُٹھایا۔ اُس کے بوجھوں نے تمہاری جدائی میں میری پیٹھ توڑ دی۔ (۴) میں چوب غضا کے دہکتے کوئلوں پر کروٹیں بدلتے بدلتے راتیں کاٹتا ہوں اور میرے آنسو رات بھر رگ آب چشم کو کھولتے رہتے ہیں ۔ (۵) نیند میری آنکھوں پر حرام ہے تم اُسکی بابت تاریکی کے ستاروں سے دریافت کر لو کیا مجال جو پلک سے پلک لگی ہو۔