ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 134
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۳۴ الحق مباحثہ دہلی کہ حضرت اس کی کیا وجہ ہے جو آپ اس طرح رہتے ہیں آپ نے کلاہ اتار کر انکے سر پر رکھدی ایک دفعہ ہی بے ہوش ہو گئے جب دیر میں افاقہ ہوا عرض کیا سو سوا سو کی شکل آدمی کی تھی اور کوئی ریچھ اور کوئی بندر اور کوئی خنزیر کی شکل تھا اور اُس وقت مسجد میں پانچ چھ ہزار آدمی تھے حضرت نے فرمایا کہ میں کس کی طرف دیکھوں اس باعث تو نہیں دیکھتا۔“ دہلی والو خدا کیلئے اس واقعہ سے عبرت پکڑو مجھے ڈر لگتا ہے کہ اسوقت بھی تم نے اپنی حرکات سے ثابت کر دیا ہے کہ تم میں بہت ہی تھوڑے ہیں جو اصلی انسانی صورت پر ہیں اللہ تعالی تم پر رحم کرے۔ اے اہل پنجاب ! موقعہ ہے کہ تم اس دہلی کے واقعہ کو سن کر پوری نصیحت حاصل کرو۔ سعادت مند وہ ہے جو دوسروں کا حال دیکھ کر عبرت پاتا ہے تم ان تکفیر باز خشک ملاؤں کو انکی اپنی غضب وحسد کی دیکتی ہوئی بھٹی میں جلنے دو ۔ ان سنگدل حقد مجسم صاحبان غرض کو کبھی بھی خلوصًا حق سے سروکار ہوا ہے جواب ہوگا ؟ ۔ اے علم خیز سرزمین لاہور کے رہنے والو ہوشیار ہو جاؤ تمہارا یہ بزرگ خطہ ساری پنجاب کا مرجع ہے۔ دیکھنا وہ پتھر جسے خود تم نے بڑی کوششوں کے ساتھ اپنی راہ سے ہٹایا ہے وہ پھر تمہاری ٹھوکر کا باعث نہ ہو۔ تم خوب جانتے ہو وہ شاخ کس جڑ سے پھوٹی ہے کس زمین میں اسکا نشو و نما ہوا ہے۔ دیکھنا دیکھنا ! بھولے سے بھی تمہارے ہاتھ سے پھر اس کی آبیاری نہ ہو! ۔ ایسا نہ ہو کہ دلّی کا اُتو تمہاری دیواروں پر بھی بولنے لگے۔ اے دانشمند و ! تم ان کا غذی گڑیوں پر کیوں فریفتہ ہوتے ہو کیا یہ کفر کے فتوے غیر معصوم ہاتھوں کے لکھے ہوئے اور ظالم دلوں کے نتائج نہیں؟ کیا یہ ناشدنی سیاہ کارروائی کر نیوالے خود بھی کاغذی پیرا ہن پہن کر داد خواہ نہیں ہوئے کہ ان پر ناحق کفر کا فتوی لگایا گیا ؟ پس یہ مسلسل کا فر بھی کیا کسی دوسرے کو کافر بنانے کا استحقاق رکھتے ہیں؟ یہ دھوکے کی مٹی ہے جو ان ملاؤں نے کھڑی کر رکھی ہے۔ اے صاف باطن حق کے طالبو اسکو پھاند کر آگے بڑھو اور دیکھو کہ وہ جسے یہ حاسد سیاہ غول ثابت کرنا چاہتے اور ڈھٹ بندی کر کے لوگوں کو ایک ڈراؤنی مورت دکھاتے ہیں وہ در حقیقت ایک عظیم الشان روشنی کا فرشتہ ہے۔ اے خدا اے ہدایت کے مالک خدا تو ان لوگوں کو توفیق عنایت فرما کہ وہ تیرے اس بندہ کو پہچانیں ! آخر میں اس دل لبھانے والے عربی قصیدہ کی نسبت جسکی اشاعت کو بڑا ضروری اور مفید سمجھا گیا ہے میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ہمارے ایک نہایت برگزیدہ دوست کا لکھا ہوا ہے جسکے وجود کو ہم اپنے درمیان اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت سمجھتے ہیں۔ ہم کسی وقت بشرط ضرورت اُنکا حال بھی لکھیں گے۔ امید ہے کہ اس قصیدہ کے اردو ترجمہ کو جو اکثر جگہ حاصل مطلب کے طور پر کیا گیا ہے دلچسپی سے خالی نہ پائیں گے۔