ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 114

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۱۴ مباحثہ لدھیانہ سے شرم کریں ۔ آپ نے صرف ایک آدمی کا پتہ مانگا تھا جو احادیث مختلفہ کی نسبت عرض علی القرآن کا قائل ہو۔ لیکن ہم نے کئی امام اور بزرگوار اس عقیدہ کے رکھنے والے پیش کر دیئے ۔ مکرر یہ کہ آپ یاد رکھیں کہ شیخ طوسی کا تمین سال تک آیت کی طلب و تلاش میں لگے رہنا شیخ کے اس مذہب کو ظاہر کر رہا ہے جو اس کا حدیث ترک الصلوٰۃ کے صحت کی نسبت اور پھر تصدیق قرآنی کی ضرورت کی نسبت تھا۔ اگر آپ قرائن موجودہ سے نہیں سمجھیں گے تو اور سمجھنے والے دنیا میں بہت ہیں انہیں کو فائدہ ہوگا۔ قوله ۔ میں قرآن کو امام جانتا ہوں * اقول ۔ یہ سراسر خلاف واقع ہے اگر آپ قرآن کو امام اور ہادی اول جانتے تو آپ کے انکار اورضد کی یہ نوبت کیوں پہنچتی ؟ آپ فرماتے ہیں کہ میرے پر یہ افترا ہے کہ میری نسبت بیان کیا گیا کہ میں قرآن کے امام ہونے کا منکر ہوں۔ اس آپ کی دلاوری کا میں کیا جواب دوں خود لوگ معلوم کر لیں گے!۔ قوله اے خدا کی مخلوق خدا سے ڈرو۔ اقول ۔ حضرت کچھ آپ بھی تو ڈر کریں * لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ ۔ قوله - یہ گمان که امام بخاری نے دمشقی حدیث کو ضعیف جان کر چھوڑ دیا ہے یہ بات وہ ہی تو ت وہ ہی شخص کہے گا جس کو حدیث کے کوچہ میں بھولے سے بھی کبھی گزر نہیں ہوا۔ اقول ۔ حضرت آپ کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو اس کو چہ میں خود گذر نہیں آپ نہیں حاشیه صفحه ۱۱۳ + حاشیه حاشیه ہاں مولوی صاحب ایک ناصح عارف باللہ کی بات مان لیجئے اس سے آپ کی شان کو کوئی بڑھ نہیں لگنے کا بلکہ تمام خدا شناس آپ کو قدر وعزت کی نگاہ سے دیکھیں گے مگر افسوس ایک مولوی کا اپنی مشہور کردہ رائے سے رجوع کرنا ایسا ہی ہے جیسا اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گذرنا ۔ وَاللهُ يَهْدِى مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ، ایڈیر نوٹ ضرور تیر از کمان جسته باز بدست نمی آید۔ ایڈیٹر ہ حضرت وہ کیوں ڈریں اس زمانہ کے مولویوں پر کچھ اس کی پابندی ضروری نہیں کہ جو کچھ وہ لوگوں کو کہیں خود بھی اس پر عمل کیا کریں ۔ اسی سے تو خلق خدا میں فتنہ برپا ہو گیا ہے اور اسی فتنہ اور ان مولویوں کی کجیوں اور ناراستیوں کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضور کو دنیا میں بھیجا ہے سعادت مند ہے وہ جو آپ کو پہچانے ۔ ایڈیٹر ا الصف : ٢۴۳ البقرة : ۲۱۴