ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 104
روحانی خزائن جلد ۴ اولد مباحثہ لدھیانہ عية ۱۰۲ تو میں تاوان کے طور پر آپ کو پچیس روپیہ نقد دوں گا اور نیز مدت العمر تک آپکے کمالات کا قائل ہو جاؤں گا اور اپنا مغلوب اور شکست یافتہ ہونا قبول کرلوں گا اور بباعث اس کے جو مجھ سے پچھیں روپیہ بطور تاوان لئے جائیں گے ۔ آپ کے کمالات حدیث دانی کے بخوبی نقش قلوب ہو جائیں گے اور ہمیشہ صفحہ روزگار میں عزت کے ساتھ یادگار رہیں گے لیکن اس میں انتظام یہ چاہئے کہ تین منصف بتراضی فریقین مقرر کئے جائیں جو فہم تقریر اور وزن دلائل کا مادہ رکھتے ہوں اور فریقین سے کسی قسم کا تعلق ان کو نہ ہو۔ نہ رشتہ ۔ نہ مذہب ۔ نہ دوستی اور اگر من بعد تعلق ثابت ہو تو وہ فیصلہ فتح کیا جائے ورنہ فیصلہ ناطق قرار دے کر بحالت غالب ہونے پچیس روپے روپیہ آپکے حوالے کر دیئے جائیں ۔ لیکن منصفوں کی آزمائش لیاقت کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ اخیری رو بکار کی طرح فیصلہ تحریری بوجوہات شافیہ قلمبند کر کے فریقین کو جلسہ عام میں سنا دیں اور ادلہ قطعیہ سے اس فریق کا غالب ہونا اپنے فیصلہ میں ظاہر کریں۔ جس کو اپنی رائے میں انہوں نے غالب سمجھا ہے یہ شرائط کچھ مشکل نہیں ہیں۔ ایسی لیاقت کے بہت آدمی ہیں بالخصوص ایسے حکام جن کو ہر وقت فیصلجات دینے کی مشق ہے اور ثابت اور غیر ثابت میں تمیز کرنے کا ملکہ ہے بڑی آسانی سے منصفی کیلئے پیدا ہو سکتے ہیں اور اگر آپ کو منصفوں کے فیصلہ کی نسبت پھر بھی کچھ دل میں دھڑکا رہے تو منصفوں کیلئے حلف کی قید بھی لگا سکتے ہیں۔ اب اگر آپ میری اس درخواست سے گریز کریں گے تو پھر بلا شبہ آپکے وہ سب دعاوی فضول قرار پا کر وہ تمام توہین و تحقیر اور ہتک کی باتیں جو آپ نے اس عاجز کی نسبت اپنی تحریرات میں خود نمائی کی غرض سے کی ہیں آپ پر وارد سمجھی جائیں گی۔ تحریر کے ذریعہ سے ایک ہفتہ تک آپ اس کا جواب دیں۔ قوله - اگر صرف قرآن سے مضمون کسی حدیث کا موافق ہونا اس کی صحت کا موجب ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ موضوع حدیثیں اگر ان کے مضامین صادق اور قرآن کے مطابق ہوں صحیح متصور ہوں ۔ اقول ۔ حضرت یہ آپ نے میری کسی عبارت سے نکالا ہے کہ میں قانون روایت محدثین کو بے مصرف اور فضول خیال کر کے اول حالت سے ہی ہر یک بے سند قول کیلئے تصدیق قرآن کریم کو حدیث بنانے کے کیلئے اور کی علیہ السلام کے حق میں فرماتا ہے وَسَلَّمُ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ لے پس اگر یوم تولد مس شیطان کا یوم ہے تو سلام کا لفظ جو سلامتی پر دلالت کرتا ہے کیونکر اس پر صادق آ سکتا ہے۔ پھر علامہ زمخشری نے تاویل کی ہے کہ اگر مریم اور ابن مریم سے مراد خاص یہی دونو نہ رکھے جائیں بلکہ ہر ایک شخص جو مریم اور ابن مریم کی صفت اپنے اندر رکھتا ہے اس کو بھی مریم اور ابن مریم ہی قرار دیا جاوے تو پھر اس حدیث کے معنے بلا شبہ میچ ہو جائیں گے۔ فافهم و تدبر ۔ ایڈیٹر مريم : ١٦