ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 75

روحانی خزائن جلد ۴ ۷۵ مباحثہ لدھیانہ النبوت ويضلون الناس ويلبسون عليهم اس پر شاید آپ یہ اعتراض کریں کہ جابر کے قول ابن ۷۳ صياد الدجال میں جو حضرت عمر کی طرف بھی منسوب ہوا ہے لفظ دجال پر الف ولام بتا رہا ہے کہ دجال سے ان کی مراد خاص دجال ہے نہ کہ کوئی دجال اور علماء معنے و بیان نے کہا ہے کہ خبر معرف بلام ہو تو اس کا مبتدا میں قصر ہوتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اگر دجال سے آخری دجال مراد نہ لیں بلکہ منجملہ میں دجال کے ایک دجال مراد ٹھہرا ئیں تو اس صورت میں بھی خاص دجال کی طرف الف ولام کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ رہا جواب قصر سو یہ ہے کہ خبر معرف بلام مقدم ہو جیسا کہ ابن عمر کے قول المسيح الدجال ابن صیاد میں ہے تو بے شک و بلا اختلاف خبر کا مبتدا پر قصر ہوتا ہے مگر در صورتیکہ خبر موخر ہو تو اس کا مفید قصر ہوناحل اختلاف ہے۔ صاحب کشاف نے فایق میں اس سے انکار کیا ہے۔ چنانچہ فاضل عبدالحکیم سیالکوٹی نے مطول کے حاشیہ میں کہا ہے قال مال صاحب الكشاف الى التفرقة بينهما حيث ذكر في الفائق ان قولك الله هو الدهر معناه انه الجالب للحوادث لاغير الجالب و قولک الدهر هو الله معناه ان الجالب للحوادث هو الله لاغيره - بناء علیہ لام الدجال سے قصر ثابت نہیں ہوتا ۔ لام کو عہدی کہو یا جنسی اور قول جابر یا حضرت عمر کے معنے یہ بنتے ہیں کہ ابن صیاد دجال ہے نہ کچھ اور یہ معنے نہیں ہیں کہ دجال وہی ہے نہ کوئی اور مگر ان باتوں کے سمجھنے کیلئے علم بیان وادب و معانی میں دخل درکار ہے جس سے آپ اس احتمال کو کہ حضرت عمر نے دجال سے تھیں ۳۰ دجالوں میں سے ایک دجال مراد رکھا تھا کسی دلیل سے الٹاویں اور ان کے صریح الفاظ سے ثابت کریں کہ دجال سے ان کی مراد آخری دجال تھا تو پھر ہم اس کا جواب یہ دیں گے کہ آنحضرت صلعم نے حضرت عمر کو جب انہوں نے ابن صیاد کو قتل کرنا چاہا تھا یہ فرمایا تھا کہ ابن صیاد وہ دجال ہے تو تجھے اس کے قتل پر قدرت نہ ہوگی اس کے قاتل حضرت عیسی علیہ السلام ہیں چنانچہ صحیح مسلم میں ہے فقـال عـمـر بـن الخطاب ذرنى يارسول الله اضرب عنقه فقال له رسول الله صلعم ان يكنه فلن تسلط عليه وان لم يكنه فلا خیر لک فی قتلہ ۔ ابوداؤد کی روایت میں یوں آیا ہے ان یکن فلست صاحبه انما صاحبه عیسی ابن مریم وان لا يكن هو فليس لك ان تقتل رجلا من اهل الذمة اس قول آنحضرت صلعم سے صاف ثابت ہے کہ آنحضرت نے حضرت عمر کو اس خیال سے ناظرین ان تاویلات رکیکہ پر ذرا غور سے نظر ڈالنا۔ اس پر حضرت مرزا صاحب کا دعوی و تحدی ملاحظہ ہو۔ ایڈیٹر