ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 68
روحانی خزائن جلد ۴ ۶۸ مباحثہ لدھیانہ ۶۶ سے یہ بھی منقول ہے کہ مجھے دولاکھ حدیثیں غیر صحیح اور ایک لاکھ صحیح یاد ہیں ۔ باوجود یکہ صحیح بخاری میں چار ہزار حدیثیں منقول ہیں جس سے ثابت ہے کہ چھیا نویں ہزار حدیث اور امام بخاری کے نزدیک صحیح ہیں جن کو وہ اپنی کتاب میں نہیں لائے ۔ وجملة مـا فــي الـصـحـيح البخـاري مـن الاحاديث المسندة سبعة الاف ومئتان و خمسة و سبعون حديثا بالاحاديث المكررة و بحذف المكررة نحو اربعة الاف كذا ذكر النووي في التهذيب والحافظ بن حجر في مقدمة فتح الباري - شیخ عبدالحق نے مقدمہ شرح مشکوۃ میں کہا ہے ونقل عن البخاري انــه قال حفظت من الصحاح مائة الف حديث ومن غير الصحاح مأتى الف۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ امام بخاری کا کسی حدیث صحیح کی روایت کو ترک کرنا اس امر کا مثبت نہیں ہے کہ انہوں نے اس کو ضعیف قرار دیا۔ امام بخاری کا ترک روایت حدیث مسلم کیونکر موجب ضعف ہو۔ امام مسلم نے خود اپنی کتاب میں بہت سی احادیث کو جن کو وہ صحیح سمجھتے ہیں ذکر نہیں کیا۔ جیسا کہ مقدمہ شرح مشکوۃ میں ہے۔ قال مسلم الذی تسلیم کر سکتا ہے بمقابلہ اس شدید اور لاجواب الزام کے جو بخاری پر عائد ہوتا ہے ( درصورتیکہ ان منقولات کو واقعی منقول عن البخاری تسلیم کیا جاوے ) کہ اس نے ( بخاری ) دین کے اکثر سے اکثر حصہ کو اور صحیح اور ثابت شدہ حصہ کو یعنی کلام نبوی کو جس کی تبلیغ اس پر فرض تھی عمداً کسل اور طوالت کی وجہ سے ترک کر دیا اور خوف طوالت کا نہایت بودہ اور نا قابل سماعت عذر پیش کر دیا ۔ دھیان میں لاؤ ان شاقہ محنتوں اور دراز مصائب کو جن کے بہ تفصیل سننے سے ایک صاحب عزم آدمی کی روح کانپ اٹھتی ہے اور جنہیں حضرت امام بخاری نے جمع احادیث کی خاطر مختلف سفروں میں گوارا کیا اور ان زمانوں میں صحرا ہائے دشوار گذار قطع کئے جب کہ قدم قدم پر ہلاکت کا اندیشہ تھا اور پھر جب کئی لاکھ احادیث کو جمع کر کے ایک لاکھ صحیح ان میں سے چھانٹیں۔ تو نیکی کر دریا میں ڈال کے مقولہ پر عمل کر کے بلا وجہ کسی ترجیح کے چار ہزار کو رکھ لیا اور باقی چھیانویں ہزار کو نیست و نابود کر دیا !!! ابله گفت و دیوانه باور کرد۔ اے سنگدل مولو یو! تمہیں کس نے دین کی حمایت کرنا سکھایا۔ تم تو خدا کی اس کے برگزیدہ رسول کی خدام کرام رسول کی توہین کر رہے ہو۔ وَلكِنْ لَا تَشْعُرُونَ کے سچ ہے اہل اللہ کے مقابلہ میں جو لوگ آویں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو مسخ کر ڈالتا ہے ان کی عقلیں تاریک ہو جاتی ہیں۔اے مولائے کریم ہمیں اس سے بچانا کہ ہم تیرے برگزیدوں سے لڑائی کی ٹھہرائیں۔ ایڈیٹر بقيه حاشيه البقرة : ۱۵۵