احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟ — Page 16
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۶ تذكرة الشهادتين چاہیں گے اور اپنے قومی غضبیہ کو اس کی مخالفت میں بھڑکائیں گے۔ اس لئے وہ آسمان پر مغضوب عليهم كہلائیں گے ان یہودیوں کی مانند جو حضرت عیسی علیہ السلام کے مکذب تھے جس تکذیب کا آخر کار نتیجہ یہ ہوا تھا کہ سخت طاعون یہود میں پڑی تھی اور بعد اس کے طیطوس رومی کے ہاتھ سے وہ نیست و نابود کئے گئے تھے۔ پس آیت غیر المغضوب عليهم سے ظاہر ہے کہ دنیا میں ہی کوئی غضب اُن پر نازل ہوگا کیونکہ آخرت کے غضب میں تو ہر ایک کا فرشریک ہے اور آخرت کے لحاظ سے تمام کافر مغضوب عليهم ہیں پھر کیا وجہ کہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں خاص کر کے ان یہودیوں کا نام مغضوب عليهم رکھا جنہوں نے حضرت عیسی کو سولی دینا چاہا تھا بلکہ اپنی دانست میں سولی دے چکے تھے۔ پس یادر ہے کہ ان یہودیوں کو مغضوب علیہم کی خصوصیت اس لئے دی گئی کہ دنیا میں ہی اُن پر غضب الہی نازل ہوا تھا اور اسی بنا پر سورہ فاتحہ میں اس اُمت کو یہ دعا سکھلائی گئی کہ خدا یا ایسا کر کہ وہی یہودی ہم نہ بن جائیں یہ ایک پیشگوئی تھی جس کا یہ مطلب تھا کہ جب اس اُمت کا مسیح مبعوث ہوگا تو اس کے مقابل پر وہ یہود بھی پیدا ہو جائیں گے جن پر اسی دنیا میں خدا کا غضب نازل ہوگا ۔ پس اس دعا کا یہ مطلب تھا کہ یہ مقد رہے کہ تم میں سے بھی ایک مسیح پیدا ہوگا اور اس کے مقابل پر یہود پیدا ہوں گے جن پر دنیا میں ہی غضب نازل ہوگا ۔ سو تم دعا کرتے رہو کہ تم ایسے یہود نہ بن جاؤ۔ یہ بات یا درکھنے کے لائق ہے کہ یوں تو ہر ایک کا فرقیامت میں مورد غضب الہی ہے لیکن اس جگہ غضب سے مراد دنیا کا غضب ہے جو مجرموں کے سزا دینے کے لئے دنیا میں ہی نازل ہوتا ۱۴﴾ ہے اور وہ یہودی جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو دکھ دیا تھا اور بموجب نص قرآن کریم ان کی زبان پر لعنتی کہلائے تھے وہ وہی لوگ تھے جن پر دنیا میں ہی عذاب کی مار پڑی تھی یعنی اوّل سخت طاعون سے وہ ہلاک کئے گئے تھے اور پھر جو باقی رہ گئے تھے وہ طیطوس رومی کے ہاتھ سے سخت عذاب کے ساتھ ملک سے منتشر کئے گئے تھے۔ پس غیر المغضوب عليهم میں یہی عظیم الشان پیشگوئی مخفی ہے کہ وہ لوگ جو مسلمانوں میں سے یہودی کہلائیں گے وہ بھی ایک مسیح کی تکذیب کریں گے جو اُس پہلے مسیح کے رنگ پر آئے گا یعنی نہ وہ جہاد کرے گا اور نہ تلوار اُٹھائے گا