احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟ — Page 373
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۶۹ چشمه سیحی اور یہ بات نہایت نا معقول اور خدائے عز و جل کے صفات کاملہ کے برخلاف ہے کہ دوزخ میں ڈالنے کے بعد ہمیشہ اس کی صفات قہر یہ ہی جلوہ گر ہوتی رہیں اور کبھی صفت رحم اور عفو کی جوش نہ مارے اور صفات کرم اور رحم کے ہمیشہ کے لئے معطل کی طرح رہیں بلکہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مدت دراز تک جس کو انسانی کمزوری کے مناسب حال استعارہ کے رنگ میں ابد کے نام سے موسوم کیا گیا ہے دوزخی دوزخ میں رہیں گے۔ اور پھر صفت رحم اور کرم تجلی فرمائے گی اور خدا اپنا ہاتھ دوزخ میں ڈالے گا اور جس قدر خدا کی مٹھی میں آجائیں گے سب دوزخ سے نکالے جائیں ☆ گے۔ پس اس حدیث میں بھی آخر کا ر سب کی نجات کی طرف اشارہ ہے کیونکہ خدا کی مٹھی ﴿۳۸﴾ خدا کی طرح غیر محدود ہے جس سے کوئی بھی باہر نہیں رہ سکتا۔ یادر ہے کہ جس طرح ستارے ہمیشہ نوبت به نوبت طلوع کرتے رہتے ہیں اسی طرح خدا کے صفات بھی طلوع کرتے رہتے ہیں۔ کبھی انسان خدا کے صفات جلالیہ اور استغناء ذاتی کے پرتوہ کے نیچے ہوتا ہے اور کبھی صفات جمالیہ کا پرتوہ اس پر پڑتا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ لے ۔ پس یہ سخت نادانی کا خیال ہے ہے۔ ۔ کہ ایسا گمان کیا جائے کہ بعد اس کے کہ مجرم لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے پھر صفات کرم لئے ہے ایسا ہی خدا کی ابدیت کے موافق ہمیشہ دوزخی دوزخ میں رہیں۔ آخران کے قصوروں میں خدا کا بھی دخل ہے کیونکہ اس نے ایسی قوتیں پیدا کیں جو کمزور تھیں ۔ پس دوزخیوں کا حق ۔ ہے جو اس کمزوری سے فائدہ اُٹھاویں جو ان کی فطرت کو خدا کی طرف سے ملی ہے۔ منہ نجات سے یہ لازم نہیں آتا کہ سب لوگ ایک مرتبہ پر ہو جائیں گے۔ بلکہ جن لوگوں نے دنیا میں خدا کو اختیار کر لیا اور خدا کی محبت میں محو ہو گئے اور صراط مستقیم پر قائم ہو گئے ان کے خاص مراتب ہیں ۔ دوسرے لوگ اس مرتبہ تک پہنچ نہیں سکتے ۔ منہ الرحمن : ٣٠