احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟ — Page 370
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۶۶ چشمه سیحی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے۔ پس انسانوں میں سے اسی انسان کو یہ جاودانی زندگی ملتی ہے جو غیروں کی محبت سے اپنا تعلق توڑ کر اور اپنی محبت ذاتی کے ساتھ خدا تعالیٰ میں فنا ہو کر ظلی طور پر اس سے حیات جاودانی کا حصہ لیتا ہے اور ایسے مخی سے شخص کو مردہ کہنا نا روا ہے کیونکہ وہ خدا میں ہو کر زندہ ہو گیا ہے ۔ مردے وہ لوگ ہیں جو خدا سے دور رہ کر مر گئے ۔ پس سخت کافر اور ۲۳ بے دین اور مشرک وہ لوگ ہیں جو بغیر پانے محبت ذاتی اور وصال الہی کے تمام ارواح کی نسبت انا دی اور قدیم زندگی کے قائل ہیں بلکہ حق تو یہ ہے کہ کسی چیز کی بجز خدا کے کوئی ہستی محو نہیں۔ محض خدا ہے جس کا نام ہست ہے۔ پھر اس کے زیر سایہ ہو کر اور اس کی محبت میں ہو کر واصلوں کی روحیں حقیقی زندگی پاتی ہیں۔ اور اس کے وصال کے بغیر زندگی حاصل نہیں ہو سکتی ۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں کافروں کا نام مردے رکھتا ہے اور دوزخیوں کی نسبت فرماتا ہے ۔ إِنَّهُ مَنْ يَّأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوْتُ فِيهَا وَلَا يحيیی لے یعنی جو شخص مجرم ہونے کی حالت میں اپنے رب کو ملے گا۔ اُس کے لئے جہنم ہے نہ اس میں مرے گا اور نہ زندہ رہے گا یعنی اس لئے نہیں مرے گا کہ دراصل وہ تعبد ابدی - کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ لہذا اس کا وجود ضروری ہے اور اس کو زندہ بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ حقیقی زندگی وصال الہی سے حاصل ہوتی ہے اور حقیقی زندگی عین نجات ہے اور وہ بجز عشق الہی اور وصال حضرت عزت کے حاصل نہیں ہو سکتی اگر غیر قوموں کو حقیقی زندگی کی فلاسفی معلوم ہوتی تو وہ کبھی دعوی نہ کرتے کہ تمام ارواح خود بخو دقدیم سے اپنا وجود رکھتی ہیں اور حقیقی ز زندگی سے بہرہ ور ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ علوم آسمانی ہیں اور آسمان سے ہی نازل ہوتے ہیں اور آسمانی لوگ ہی ان کی حقیقت کو جانتے ہیں اور دنیا اُن سے بے خبر ہے۔ اب ہم پھر اصل مضمون کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ چشمہ نجات ابدی کا وصالِ الہی ہے اور وہی نجات پاتا ہے کہ جو اس چشمہ سے زندگی کا پانی پیتا ہے۔ اور وہ وصال ا طه : ۷۵