احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟ — Page 226
<mark>روح</mark>انی خزائن جلد ۲۰ ۲۲۴ لیکچر سیالکوٹ اسلام نے سکھلائی ہے اور <mark>روح</mark> کا کھڑا ہونا یہ ہے کہ وہ خدا کے لئے ہر ایک مصیبت کی برداشت اور حکم ماننے کے بارے میں مستعدی ظاہر کرتی ہے اور اس کا رکوع یعنی جھکنا یہ ہے کہ وہ تمام محبتوں اور تعلقوں کو چھوڑ کر خدا کی طرف جھک آتی ہے اور خدا کے لئے ہو جاتی ہے اور اُس کا سجدہ یہ ہے کہ وہ خدا کے آستانہ پر گر کر اپنے تئیں بکلی کھو دیتی ہے اور اپنے نقش وجود کو مٹا دیتی ہے۔ یہی نماز ہے جو خدا کو ملاتی ہے اور شریعت اسلامی نے اس کی تصویر معمولی نماز میں کھینچ کر دکھلائی ہے تا وہ جسمانی نماز <mark>روح</mark>انی نماز کی طرف محرک ہو کیونکہ خدا تعالیٰ نے انسان کے وجود کی ایسی بناوٹ پیدا کی ہے کہ <mark>روح</mark> کا اثر جسم پر اور جسم کا اثر <mark>روح</mark> پر ضرور ہوتا ہے۔ جب تمہاری <mark>روح</mark> غمگین ہو تو آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو جاتے ہیں اور جب <mark>روح</mark> میں خوشی پیدا ہو تو چہرہ پر بشاشت ظاہر ہو جاتی ہے یہاں تک کہ انسان بسا اوقات ہنسنے لگتا ہے ایسا ہی جب جسم کو کوئی تکلیف اور درد پہنچے تو اس درد میں <mark>روح</mark> بھی شریک ہوتی ہے اور جب جسم کھلی ٹھنڈی ہوا سے خوش ہو تو <mark>روح</mark> بھی اس سے کچھ حصہ لیتی ۲۹ ہے۔ پس جسمانی عبادات کی غرض یہ ہے کہ <mark>روح</mark> اور جسم کے باہمی تعلقات کی وجہ سے <mark>روح</mark> میں حضرت احدیت کی طرف حرکت پیدا ہو اور وہ <mark>روح</mark>انی قیام اور رکوع اور سجود میں مشغول ہو جائے کیونکہ انسان ترقیات کے لئے مجاہدات کا محتاج ہے اور یہ بھی ایک قسم مجاہدہ کی ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جب دو چیزیں باہم پیوست ہوں تو جب ہم اُن میں سے ایک چیز کو اٹھائیں گے تو اُس اُٹھانے سے دوسری چیز کو بھی جو اس سے ملحق ہے کچھ حرکت پیدا ہو گی لیکن صرف جسمانی قیام اور رکوع اور سجود میں کچھ فائدہ نہیں ہے جب تک کہ اس کے ساتھ یہ کوشش شامل نہ ہو کہ <mark>روح</mark> بھی اپنے طور سے قیام اور رکوع اور سجود سے کچھ حصہ لے اور یہ حصہ لینا معرفت پر موقوف ہے اور معرفت فضل پر موقوف اور خدا نے قدیم سے اور جب سے کہ