The Revealed Sermon

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 96

The Revealed Sermon — Page 7

THE REVEALED SERMON ذِي الْآلَاءِ وَالْأَمْرِ وَالْإِمَارَةِ، مَعَ تَحَوُّلِ أَنْوَاعِ بکار د ہائے بریدن از خلق و آرمیدن بحق ذبح کنند و از و سوئے خدائے بگریزند که حکومت حقیقی و فرمان روائی بدست قبضه قدرت پس نجات اس میں ہے کہ اس بُرا حکم دینے والے کو انقطاع الی اللہ کے کاردوں سے ذبح کر دیا جائے اور خلقت سے قطع تعلق کر کے الْمَرَارَةِ، لِتَنْجُوَ النَّفْسُ مِنْ مَوْتِ الْغَرَارَةِ. اوست و و با این همه از بهر این کار گوناگون کار گوناگون تلخی ها را باید برداشت تان ہمہ خدا تعالیٰ کو اپنا مونس تا نفس از موت غفلت نجات یابد ئے اور اسکے اور آرام جان قرار دیا جائے و تا نفس و غفلت ساتھ انواع اقسام کی تلخیوں کی برداشت بھی کی جائے تا وَهَذَا هُوَ مَعْنَى الْإِسْلامِ، وَحَقِيقَةُ الْإِنْقِيَادِ التَّامِ. ہمیں است معنی اسلام و همین ست حقیقت اطاعت کامله کی موت سے نجات پاوے اور یہی اسلام کے معنے ہیں اور یہی کامل اطاعت کی حقیقت ہے وَالْمُسْلِمُ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، و مسلمان آنکس است که برائے خدا تعالیٰ گردن خود از بهر ذبح شدن نهاده باشد و اور مسلمان وہ ہے جس نے اپنا منہ ذبح ہونے کیلئے خدا تعالیٰ کے آگے رکھ دیا ہو۔ اور وَلَهُ نَحَرَ نَاقَةَ نَفْسِهِ وَتَلَّهَا لِلْجَبِينِ، وَمَا نَسِيَ الْحَيْنَ شتر ماده نفس را کشته و از بهر ذبح بر پیشانی فگنده و هیچ وقتے موت خود را نفس کی اونٹنی کو اس کے لئے قربان کر دیا ہو اور ذبح کے لئے پیشانی کے بل اسکو گرا دیا ہو اور موت سے اپنے لو the Possessor of bounties, power and authority; and by considering God Almighty-to the exclusion of all creation—as being an intimate friend and the comfort of one's soul. Moreover, one must endure diverse forms of bitter hardships to save one's self from the death of heedlessness. This is the meaning of Islam and the true import of perfect submission. A Muslim is one who submits himself to slaughter before Allah, the Lord of all the worlds, and who, for His sake, has slaughtered the she-camel of his self and has thrown it down on its forehead; and is never oblivious, even for a moment, 7