تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 430 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 430

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لداه ۔ سورة الناس ہے (۱) سورہ فاتحہ جو ہے اتحہ جو ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے۔ اس میں ہمارے دعوئی کا ثبوت ہے ۔۔۔۔(۲) سورہ جمعہ جس میں وَ آخَرِينَ مِنْهُم مسیح موعود کی جماعت کے متعلق ہے۔ یہ ہر جمعہ میں پڑھی جاتی ہے (۳) سورۂ کہف جس کے پڑھنے کے واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے۔ اس کی پہلی اور پچھلی دس آیتوں میں دجال کا ذکر ہے (۴) آخری سورت قرآن کی جس میں دجال کا نام خناس رکھا ہے۔ یہ وہی لفظ ہے جو عبرانی توریت میں دجال کے واسطے آیا ہے یعنی نحاش ۔۔۔ ایسا ہی قرآن شریف کے اور مقامات میں بھی بہت ذکر ہے۔ الحکم جلد ۵ م جلد ۵ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۱ ء صفحه ۱۱) فرشتہ نیکی میں ترغیب اور مدد دیتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے أَيَّدَهُمْ بِرُوحِ مِنْهُ اور شیطان بدی کی ترغیب دیتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے يُوسوس ۔ ان دونوں کا انکار نہیں ہو سکتا۔ ظلمت اور نور ہر دو ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ عدم علم سے عدم شے ثابت نہیں ہوسکتا۔ ماسوائے اس عالم کے اور ہزاروں عجائبات ہیں ۔ گویا یدرک ہوں ۔ قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ میں شیطان کے ان وساوس کا ذکر ہے جو کہ وہ لوگوں کے درمیان ان دنوں ڈال رہا ہے۔ بڑا وسوسہ یہ ہے کہ ربوبیت کے متعلق غلطیاں ڈالی جائیں جیسا کہ امیر لوگوں کے پاس بہت مال و دولت دیکھ کر انسان کہے کہ یہی پرورش کرنے والے ہیں۔ اس واسطے حقیقی رب الناس کی پناہ چاہنے کے واسطے فرمایا پھر دنیوی بادشاہوں اور حاکموں کو انسان مختار مطلق کہنے لگ جاتا ہے۔ اس پر فرمایا کہ مَلِكِ النَّاسِ اللہ ہی ہے۔ پھر لوگوں کے وساوس کا یہ نتیجہ ہوتا ہے که مخلوق کو خدا کے برابر ماننے لگ پڑتے ہیں اور ان سے خوف و رجا رکھتے ہیں اس واسطے اللهِ النَّاسِ فرمایا۔ یہ تین وساوس ہیں ان کے دور کرنے کے واسطے یہ تین تعویذ ہیں اور ان وساوس کے ڈالنے والا وہی خناس ہے جس کا نام توریت میں زبانِ عبرانی کے اندر نا حاش آیا ہے جو حوا کے پاس آیا تھا چھپ کر حملہ کرنے والا ۔ اس سورت میں اسی کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دجال بھی جبر نہیں کرے گا بلکہ چھپ کر حملہ کرے گا تا کہ کسی کو خبر نہ ہو۔ جیسا کہ پادریوں کا حملہ ہوتا ہے۔ یہ غلط ہے کہ شیطان خود حوا کے پاس گیا ہو بلکہ جیسا کہ اب چھپ کر آتا ہے ویسا ہی تب بھی چھپ کر گیا تھا۔ کسی آدمی کے اندر وہ اپنا خیال بھر دیتا ہے اور وہ اس کا قائم مقام ہو جاتا ہے۔ کسی ایسے مخالف دین کے دل میں شیطان نے یہ بات ڈال دی تھی اور وہ بہشت جس میں حضرت آدم رہتے تھے وہ بھی زمین پر ہی تھا کسی بد نے ان کے دل میں وسوسہ ڈال دیا۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه ۱۰)