تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 415
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۵ کفوا احد ہے تو شاید عیسائی اس مخلوق پرستی کی بلا سے رک جاتے ۔ سورة الاخلاص (کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۸۴ ) ان کو کہہ دے کہ وہ سچا خدا ایک خدا ہے جو کسی کا باپ نہیں اور نہ کسی کا بیٹا اور نہ اس کا کوئی ہم جنس ہے۔ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۳۵۵) تیسری دعا ولا الضَّالِّينَ ہے اور اس کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورۃ اخلاص ہے یعنی قلی هُوَ اللهُ أَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ - الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدُ وَلَمْ يُولَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ۔۔۔۔۔ وہ اہم مقصد جو قرآن میں مفصل بیان کیا گیا ہے سورہ فاتحہ میں بطور اجمال اس کا افتتاح کیا ہے اور پھر سورۃ تبت اور سورۃ اخلاص اور سورۃ فلق اور سورۃ الناس میں ختم قرآن کے وقت میں انہی دونوں بلاؤں سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے ۔ پس افتتاح کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں سے ہوا اور پھر اختتام کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں پر کیا گیا۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۱۸) تم اے مسلمانو ۔ نصاری سے کہو کہ وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۲۰) قرآن نے اپنے اول میں بھی مغضوب علیہم اور ضالین کا ذکر فرمایا ہے اور اپنے آخر میں بھی جیسا کہ آیت لَمْ يَلِدُهُ وَلَمْ يُولَدُ بصراحت اس پر دلالت کر رہی ہے اور یہ تمام اہتمام تاکید کے لئے کیا گیا اور نیز اس لئے کہ تا مسیح موعود اور غلبہ نصرانیت کی پیشگوئی نظری نہ رہے اور آفتاب کی طرح چمک اُٹھے۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۲۲) آخری مظہر شیطان کے اسم دجال کا جو مظہر اتم اور اکمل اور خاتم المظاہر ہے وہ قوم ہے جس کا قرآن کے اول میں بھی ذکر ہے اور قرآن کے آخر میں بھی یعنی وہ ضالین کا فرقہ جس کے ذکر پر سورۃ فاتحہ ختم ہوتی ہے اور پھر قرآن شریف کی آخری تین سورتوں میں بھی اس کا ذکر ہے یعنی سورہ اخلاص اور سورہ فلق اور سورہ ناس میں صرف یہ فرق ہے کہ سورہ اخلاص میں تو اس قوم کی اعتقادی حالت کا بیان ہے جیسا کہ فرما یا قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَد یعنی خدا ایک ہے اور احد ہے یعنی اس میں کوئی ترکیب نہیں۔ نہ کوئی اس کا بیٹا اور نہ وہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔ پس اس سورت میں تو (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۶۹، ۲۷۰ حاشیه ) اس قوم کے عقائد بتلائے گئے۔