تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 404 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 404

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ولد سورة النصر ان کی مذمت کی ۔ یہ حیرت انگیز کامیابی ، یہ عظیم الشان انقلاب کسی نبی کی زندگی میں نظر نہیں آتا جو ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھایا ۔ یہ کامیابی آپ کی اعلیٰ درجہ کی قوت قدسی اور اللہ تعالیٰ سے شدید تعلقات کا نتیجہ تھا۔ ایک وقت وہ تھا کہ آپ مکہ کی گلیوں میں تنہا پھرا کرتے تھے اور کوئی آپ کی بات نہ سنتا تھا اور پھر ایک وقت وہ تھا کہ جب آپ کے انقطاع کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو یاد دلا یا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ - وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا - آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا کہ اس سے وفات کی بو آتی ہے کیونکہ وہ کام جو میں چاہتا تھا وہ تو ہو گیا ہے اور اصل قاعدہ یہی ہے کہ انبیاء علیہم السلام اسی وقت تک دنیا میں رہتے ہیں جب تک وہ کام جس کے لئے وہ بھیجے جاتے ہیں نہ ہوئے۔ جب وہ کام ہو چکتا ہے تو ان کی رحلت کا زمانہ آجاتا ہے جیسے بندو بست والوں کا جب کام ختم ہو جاتا ہے تو وہ اس ضلع سے رخصت ہو جاتے ہیں ۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۵ مورخه ۱۰ رفروری ۱۹۰۴ ء صفحه ۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ماننے والوں کا نام سابقین رکھا ہے لیکن جب بہت سے مسلمان فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے تو ان کا نام صرف ناس رکھا گیا جیسے فرمایا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ۔ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا ۔ حقیقت یہی ہے کہ جب حق کھل جاتا ہے پھر انکار کی گنجائش نہیں رہتی جیسے جب دن چڑھا ہوا ہے تو پھر بجز شرک کے کون انکار کرے گا۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۲) کھانسی جب شدت سے ہوتی ہے تو بعض وقت دم رکھنے لگتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جان کندن کی سی حالت ہے۔ چنانچہ اس شدت کھانسی میں مجھے اللہ تعالیٰ کی غناء ذاتی کا خیال گزرا اور میں سمجھتا تھا کہ اب گویا موت کا وقت قریب ہے۔ اس وقت الہام ہوا ۔ اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ - وَ رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِی دِینِ اللهِ أَفْوَاجًا ۔ اس کے یہ معنے سمجھائے گئے کہ ایسا خیال اس وقت غلط ہے بلکہ اس وقت جب إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَ الْفَتْحُ کا نظارہ دیکھ لو اس وقت تو کوچ ضروری ہو جاتا ہے ۔سب کے لئے یہی اصول ہے کہ جب وہ کام کہ جس کے لئے اس کو بھیجا جاتا ہے ختم ہو جاتا ہے تو پھر وہ رخصت ہوتا ہے۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۶ مورخه ۷ ارفروری ۱۹۰۴ ء صفحہ ۶ ) طاعون ہمارے لئے کام کر رہی ہے۔ اگر اس گروہ میں ایک شہید ہو جاتا ہے تو اس کے قائم مقام ہزار