تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 402
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ١٠ سورة النصر مگر انہوں نے ایسے وقت میں قبول کیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بڑی بڑی تعریفیں کیں اور بڑے بڑے انعامات اور فضلوں کا وارث ان کو بنایا پس ہر ایک کو یاد رکھنا چاہیے اد رکھنا چاہیے کہ جو اس بات کا انتظار کرتا ہے کہ فلاں وقت آئے گا اور انکشاف ہوگا۔ تو مان لیں گے وہ کسی ثواب کی امید نہ رکھے۔ ایسا تو ضرور ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سب حجاب دور کر دے گا اور اس معاملہ کو آفتاب کی طرح کھول کر دکھا دے گا مگر اس وقت ماننے والوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ پیغمبروں کو ماننے والوں میں ثواب اولوں کو سب سے بڑھ کر ملا ہے اور انکشاف کا زمانہ تو ضرور آتا ہے لیکن آخران کا نام ناس ہی ہوتا ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲، ۳) قاعدہ کی بات ہے ہے کہ محبت اور ایمان کے لئے اسباب ہوتے ہیں۔ مسیح کی زندگی پر نظر کرو تو معلوم ہوگا کہ ساری عمر دھکے کھاتے رہے ۔ صلیب پر چڑھنا بھی مشتبہ رہا۔ ادھر ایک لمبا سلسلہ عمر اور سوانح کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھو کہ کیسے نصرت الہی شامل رہی۔ ہر ایک میدان میں آپ کو فتح ہوئی ۔ کوئی گھڑی یاس کی آپ پر گزری ہی نہیں یہاں تک کہ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَ الْفَتْحُ کا وقت آگیا۔ ان تمام نصرتوں میں کوئی حصہ بھی حضرت مسیح کا نظر نہیں آتا اس سے صاف ثابت ہے کہ محبت آنحضرت کی خدا سے زیادہ ہو نہ کہ مسیح کی کیونکہ آنحضرت پر اللہ تعالیٰ کے انعامات بکثرت ہیں اور اس لئے صرف آنحضرت کی یہ شان ہو سکتی ہے کہ وہ آسمان پر زندہ ہوں ۔ جو شخص نظارۂ قدرت زیادہ دیکھتا ہے وہی زیادہ فریفتہ ہوا کرتا ہے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۹ مورخه ۲۹ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۴۶) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا میں آنا اور پھر وہاں سے رخصت ہونا قطعی دلیل آپ کی نبوت پر ہے ۔ رہے۔ آئے آپ اس وقت جبکہ زمانہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ( الروم : ۴۲) کا مصداق تھا اور ضرورت ایک نبی کی تھی ۔ ضرورت پر آنا بھی ایک دلیل ہے اور آپ اس وقت دنیا سے رخصت ہوئے جب إِذَا جَاءَ نَصْرُ الله کا آوازہ دیا گیا ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آپ کس قدر عظیم الشان کامیابی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو نے اپنی آنکھ سے دیکھ لیا کہ فوج در فوج لوگ داخل ہو رہے ہیں فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ یعنی وہ رب جس نے اس قدر کامیابی دکھلائی اس کی تسبیح و تحمید کر اور انبیاء پر جوا جو انعامات پوشیدہ رہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کھول دیئے گئے اور رحمت کے تمام امور اجلی کر دیئے کوئی بھی مخفی نہ رکھا۔ اس حمد کا ثبوت اس آخری وقت پر آکر دیا۔ احمد کے معنے بھی حمد کرنے والا ۔