تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 364 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 364

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۴ سورة العصر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی نئے سرے اصلاح عالم کی طرف ایسی سرگرمی سے توجہ کرے گی کہ گو یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مبعوث ہو کر دنیا میں آگئے ہیں۔ یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِم پس یہ خبر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث دوم کے متعلق ہے جس کے ساتھ یہ شرط ہے کہ وہ بعث ہزار ششم کے اخیر پر ہوگا۔ اسی حدیث سے اس بات کا قطعی فیصلہ ہوتا ہوتا ہے کہ ضرور ہے کہ مہدی معہود اور مسیح موعود جو مظہر تجلیات محمد یہ ہے جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بحث دوم موقوف ہے وہ چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہو کیونکہ یہی صدی ہزار ششم کے آخری حصہ میں پڑتی ہے اور بعض علماء کا اس جگہ یہ تاویل کرنا کہ عمر دنیا سے مراد گذشتہ عمر ہے یہ درست نہیں ہے کیونکہ یہ تمام حدیثیں بہ حیثیت پیشگوئی کرنے کے ہیں اور حدیث ہفت پایہ ممبر خواب میں دیکھنے کی بھی اسی کی مؤید ہے اور اس بارے میں جو نقیدہ مقبولۃ الاجماع یہود و نصاری ہے وہ بھی اسی کی تائید کرتا ہے اور گزشتہ نبیوں کے سلسلہ پر نظر کرنے سے یہی تخمینہ قیاسا سمجھ میں آتا ہے۔ اور یہ کہنا کہ آئندہ کی تو خدا نے کسی کو خبر نہیں دی کہ کب قیامت آئے گی یہ بے شک صحیح ہے مگر عمر دنیا کی سات ہزار برس قرار دینے سے اس امر کے بارے میں کہ کس گھڑی قیامت برپا ہوگی کوئی دلیل قطعی معلوم نہیں ہوتی کیونکہ سات ہزار کے لفظ سے یہ مستنبط نہیں ہوتا کہ ضرور سات ہزار برس پورا کر کے قیامت آجائے گی ۔ وجہ یہ کہ اول تو یہ امر مشتبہ رہے گا کہ اس جگہ خدا تعالیٰ نے سات ہزار سے شمسی حساب کی مدت مراد لی ہے یا قمری حساب کی اور شمسی حساب سے اگر سات ہزار سال ہو تو قمری حساب سے قریباً دوسو برس اور اوپر چاہئے اور ماسوا اس کے چونکہ عرب کی عادت میں یہ داخل ہے کہ وہ کسور کو حساب سے ساقط رکھتے ہیں اور محل مطلب نہیں سمجھتے اس لئے ممکن ہے کہ سات ہزار سے اس قدر زیادہ بھی ہو جائے جو آٹھ ہزار تک نہ پہنچے ۔ مثلاً دو تین سو برس اور زیادہ ہو جائیں تو اس صورت میں باوجود بیان اس مدت کے وہ خاص ساعت تو مخفی کی مخفی ہی رہی اور یہ مدت بطور ایک علامت کے ہوئی جیسا کہ انسان کی موت کی گھڑی جو قیامت صغری ہے مخفی ہے مگر یہ علامت ظاہر ہے کہ ایک سو بیس برس تک انسان کی زندگی ختم ہو جاتی ہے اور پیرانہ سالی بھی اس کی موت کی ایک علامت ہے ایسا ہی امراض مہلکہ بھی علامت موت ہیں اور نیز اس میں کیا شک ہے کہ قرآن شریف میں قرب قیامت کی بہت سی علامتیں بیان فرمائی گئی ہیں اور ایسا ہی احادیث میں بھی ۔ پس منجملہ ان کے سات ہزار سال بھی ایک علامت ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ قیامت بھی کئی قسم پر منقسم ہے اور ممکن ہے کہ سات ہزار سال کے بعد کوئی قیامت صغری ہو جس سے دنیا کی ایک