تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 357
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۷ سورة العصر عَلَى حَدِيْثِ عُمُرِ الْأَنْبِيَاءِ ، فَإِنَّ عُمر ہو جاتا ہے جو انبیاء کی عمر والی حدیث پر وارد ہوتا ہے عِيسَى مِنْ جِهَةِ بَقَاءِ دِينِهِ نِصْفُ عُمر کیونکہ بغیر کسی تاویل کے حضرت عیسی کی عمر آپ کے دین مُوسَى كَمَا ظَهَرَ مِنْ غَيْرِ الْخِفَاءِ، وَعُمُرُ کے بقاء کے لحاظ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عمر کا سَيِّدِيَا خَيْرِ الرُّسُلِ بِالنَّظْرِ إِلَى الْقُرُونِ نصف بنتی ہے اور سید نا خیر الرسل کی عمر آپ کی پہلی تین الثَّلَاثَةِ نِصْفُ عُمُرِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صدیوں کو دیکھتے ہوئے بالکل واضح طور پر عیسی ابن مریم بِالْبَدَاهَةِ۔ ثُمَّ بَعْدَ ذَلِكَ أَيَّامُ مَوْتِ کی عمر کا نصف بنتی ہے۔ اس کے بعد ایک ہزار سال تک الْإِسْلَامِ إِلى أَلْفِ سَنَةٍ۔ ثُمَّ بَعْدَ مَوْتِ اسلام پر موت کا زمانہ ہے پھر ان معنی کے رو سے رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهذَا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے بعد مسیح موعود الْمَعْنَى زَمَانُ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ الَّذِي کا زمانہ ہے جو شیطان مردود کے قتل کرنے کے سلسلہ يُشَابِهُ أَبَا بَكْرٍ فِي قَتْلِ الشَّيْطَانِ الْمَرْدُودِ میں حضرت ابوبکر کے زمانہ کے مشابہ ہے کیونکہ مسیح موعود فَإِنَّ الْمَسِيحَ الْمَوْعُودَ قَدِ اسْتُخْلِفَ بَعْدَ کو دین کے لحاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مَوْتِ النَّبِيِّ الْكَرِيمِ مِنْ حَيْثُ دِينِهِ مِنْ موت کے بعد بلافصل بلکہ تدفین سے بھی پہلے خلیفہ بنایا غَيْرِ فَاصِلَةٍ قَبْلَ تَدْفِيْنِهِ، وَأَشْرَكَهُ رَبُّهُ فِي گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت ابوبکر کی خلافت نَبَأَ خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ أَعْنِي النَّبَأُ الَّذِي ذُكِرَ کی اس خبر میں شریک کر دیا ہے جو قرآن مجید میں مذکور فِي صُحُفٍ مُطَهَّرَةٍ، وَوُفِّقَ كَمَا وُفِّقَ أَبُو بَكْرٍ ہے اور اس کو بھی حضرت ابوبکر کی طرح توفیق دی گئی اور وَأُعْطِيَ لَهُ الْعَزْمُ كَمِثْلِهِ لِمَنْعِ سَيْلِ مہلک گمراہی کے سیلاب کو روکنے کے لئے ان جیسا عزم ضَلَالَةٍ مُهْلِكَةٍ۔ وَإِلَيْهِ أَشَارَ سُبْحَانَهُ تَعَالیٰ دیا گیا ۔ اس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے قول لَيْلَةُ الْقَدْرِ فِي قَوْلِهِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ میں اشارہ فرمایا ہے ۔ اَلْفِ شَهْرٍ يَعْنِي مِنْ أَلْفِ سَنَةٍ، وَكَثُرَتِ الْإِسْتِعَارَاتُ سے مراد یہاں اَلْفِ سَنَةٍ ہے اور ایسے استعارات كَمِثْلِهِ فِي كُتُبِ سَابِقَةٍ ثُمَّ بَعْدَ ذَالِكَ کتب سابقہ میں کثرت سے آئے ہیں ۔ ۔ (اسلام پر ) الْأَلْفِ زَمَانُ الْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَزَمَانُ اس ہزار سالہ موت کے بعد بعثت بعد الموت اور مسیح موعود الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ، فَقَدْ تَمَّ الْيَوْمَ أَلْفُ کا زمانہ ہے، پس آج ضلالت اور موت کا ہزار سال پورا الضَّلَالَةِ وَالْمَوْتِ، وَجَاءَ وَقْتُ بَعْدَ ہو گیا اور زندہ در گور اسلام کے بعد کا وقت آگیا۔ اور ۲: ل القدر : ٢