تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 340

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام له لد ۔ سورة التكاثر مثالیں ہیں کہ اگر مثلاً ایک شخص دور سے کسی جگہ بہت سا دھواں دیکھے اور دھوئیں سے ذہن منتقل ہو کر آگ کی طرف چلا جائے اور آگ کے وجود کو یقین کرے اور اس خیال سے کہ دھوئیں اور آگ میں ایک تعلق لا ینفک اور ملازمت تامہ ہے۔ جہاں دھواں ہو گا ضرور ہے کہ آگ بھی ہو۔ پس اس علم کا نام علم الیقین ہے اور پھر جب آگ کے شعلے دیکھ لے تو اس کا نام عین الیقین ہے اور جب اس آگ میں آپ ہی داخل ہو جائے تو اس علم کا نام حق الیقین ہے۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جہنم کے وجود کا علم الیقین تو اسی دنیا میں ہو سکتا ہے۔ پھر عالم برزخ میں عین الیقین حاصل ہوگا اور عالم حشر اجساد میں وہی علم حق الیقین کے کامل مرتبہ تک پہنچے گا۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۰۲) اے وے لوگو جو خدا سے غافل ہو! دنیا طلبی نے تمہیں غافل کیا یہاں تک کہ تم قبروں میں داخل ہو جاتے ہوا اور غفلت سے باز نہیں آتے یہ تمہاری غلطی ہے اور عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔ پھر میں کہتا ہوں کہ عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔ اگر تمہیں یقینی علم حاصل ہو جائے تو تم علم کے ذریعہ سے سوچ کر کے اپنے جہنم کو دیکھ لو اور تمہیں معلوم ہو جائے کہ تمہاری زندگی جہنمی ہے پھر اگر اس سے بڑھ کر تمہیں معرفت ہو جائے تو تم یقین کامل کی آنکھ سے دیکھ لو کہ تمہاری زندگی جہنمی ہے۔ پھر وہ وقت بھی آتا ہے کہ تم جہنم میں ڈالے جاؤ گے اور ہر ایک عیاشی اور بے اعتدالی سے پوچھے جاؤ گے ۔ یعنی عذاب میں ماخوذ ہو کر حق الیقین تک پہنچ جاؤ گے۔ ان آیات میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یقین تین قسم کا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ محض علم اور قیاس سے حاصل ہوتا ہے جیسا کہ کوئی دور سے دھواں دیکھے اور قیاس اور عقل کو دخل دے کر سمجھ لے کہ اس جگہ ضرور آگ ہوگی ۔ اور پھر دوسری قسم یقین کی یہ ہے کہ اس آگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ پھر تیسری قسم یقین کی یہ ہے کہ مثلاً اس آگ میں ہاتھ ڈال دے اور اس کی قوت احتراق سے مزہ چکھ لے۔ پس یہ تین قسمیں ہوئیں۔ علم الیقین - عین الیقین حق الیقین۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے سمجھایا کہ تمام راحت انسان کی خدا تعالیٰ کے قرب اور محبت میں ہے اور جب اس سے علاقہ توڑ کر دنیا کی طرف جھکے تو یہ جہنمی زندگی ہے۔ اور اس جہنمی زندگی پر آخر کار هر یک شخص اطلاع پا لیتا ہے اور اگرچہ اس وقت اطلاع پاوے جب کہ یکدفعہ مال و متاع اور دنیا کے تعلقات کو چھوڑ کر مرنے لگے۔ لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۸،۱۵۷ الْهُكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ کہ اے لوگو جو تم خدا سے غافل ہو دنیا طلبی نے تم کو غافل کر دیا ہے یہاں تک کہ تم قبروں میں داخل ہو جاتے ہو مگر غفلت سے باز نہیں آتے گلا سَوفَ تَعْلَمُونَ مگر اس غلطی کا تم