تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 338
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۸ سورة الزلزال انعکاسی نمونہ لوگ دیکھ لیں گے اور انسان کو اپنے مخفی در مخفی گناہوں اور عزیمتوں کی سزا بھگتنی پڑے گی ۔ دنیا اور آخرت کی سزاؤں میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ دنیا کی سزائیں امن قائم کرنے اور عبرت کے لئے ہیں اور آخرت کی سزائیں افعالِ انسانی کے آخری اور انتہائی نتائج ہیں ۔ وہاں اسے سزا ضرور ملنی ٹھہری کیونکہ اس نے زہر کھائی ہوئی ہے اور یہ ممکن نہیں کہ بدوں تریاق وہ اس زہر کے اثر سے محفوظ رہ سکے۔ الحکم جلد ۶ نمبر امورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۲ء صفحه ۴) ( معرفت سے ۔ ناقل ) اول گناہ کا علم عطا ہوتا ہے۔ پھر وہ خدا جس نے مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا یدا فرمایا ہے اس کو عرفان بخشتا ہے تب وہ بندہ خدا کے خوف میں ترقی کرتا اور اس پاکیزگی کو پالیتا ہے جو اس کی پیدائش کا مقصد ہے۔ الحکم جلدے نمبرے مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۰۳ ء صفحہ ۶ ) خدا تعالیٰ سے جو ذرہ بھر بھی تعلق رکھتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا ۔ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَةً - البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۰۷) اللہ تعالیٰ کسی کے اجر کو ضائع نہیں کرتا جو کوئی ذرہ سی بھی بھلائی کرتا ہے وہ اس کا بدلہ پالیتا ہے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخہ ۳ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۸۶) مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًا يَّرَہ کوئی برا عمل کرے خواہ کتنا ہی کیوں نہ کرے اس کی پاداش اس کو ملے گی ۔ یہاں کوئی تخصیص ذات اور قوم کی نہیں ۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ رستمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۴)