تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 320 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 320

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۰ سورة البينة اسی وجہ سے اب تک صحیح و سالم چلے آتے ہیں کہ خدا وند کریم نیست و نابود ہونے سے ان کو محفوظ رکھتا ہے مثلاً اگر خدائے تعالیٰ جسمانی سلسلہ کی حفاظت نہ کرتا اور سخت سخت قحطوں کے وقت میں بارانِ رحمت سے دستگیری نہ فرماتا تو بالآخر نتیجہ اس کا یہ ہوتا کہ لوگ پہلی فصلوں کی جس قدر پیداوار تھی سب کی سب کھا لیتے اور پھر آگے اناج کے نہ ہونے سے تڑپ تڑپ کر مر جاتے اور نوع انسان کا خاتمہ ہو جاتا یا اگر خدائے تعالیٰ عین وقتوں پر رات اور دن اور سورج اور چاند اور ہوا اور بادل کو خدمات مقررہ میں نہ لگا تا تو تمام سلسلہ عالم کا درہم برہم ہو جاتا۔ ( براہین احمد یہ چہار خصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۶۱ تا ۶۶۳ ) جن سخت بلاؤں میں اہل کتاب اور مشرکین مبتلا تھے ان سے نجات پانے کی کوئی سبیل نہ تھی بجز اس سبیل کے کہ خدائے تعالیٰ نے آپ پیدا کر دی کہ وہ زبردست رسول بھیجا جس کے ساتھ زبردست تحریک دینے والے ملائک نازل کئے تھے اور زبردست کلام بھیجا گیا تھا۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۶۱،۱۶۰) يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً - فِيهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ ـ یعنی خدا کا رسول پاک صحیفے پڑھتا ہے جن میں تمام کامل صداقتیں اور علوم اولین و آخرین درج ہیں۔ (براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۲۳ حاشیہ نمبر ۱۱) قرآن کل دنیا کی صداقتوں کا مجموعہ ہے اور سب دین کی کتابوں کا فخر ہے جیسے فرمایا ہے فِيهَا كُتب قَيِّمَةٌ اور يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً ۔ پس قرآن کریم کے معنی کرتے وقت خارجی قصوں کو نہ لیں بلکہ واقعات کو و مد نظر رکھنا چاہیے۔ رووو الحکم جلد ۴ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۰ء صفحه ۴) قرآن لانے والا وہ شان رکھتا ہے کہ يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبُ قَيِّمَةُ ایسی کتاب جس میں ساری کتابیں اور ساری صداقتیں موجود ہیں ۔ کتاب سے مراد اور عام مفہوم وہ عمدہ باتیں ہیں جو بالطبع انسان قابل تقلید سمجھتا ہے۔ قرآن شریف ایسی حکمتوں اور معارف کا جامع ہے اور رطب و یابس کا ذخیرہ اس کے اندر نہیں۔ ہر ایک چیز کی تفسیر وہ خود کرتا ہے اور ہر ایک قسم کی ضرورتوں کا سامان اس کے اندر موجود ہے۔ وہ ہر پہلو سے نشان اور آیت ہے۔ اگر کوئی انکار کرے تو ہم ہر پہلو سے اس کا اعجاز ثابت کرنے اور دکھلانے کو تیار ہیں ۔ آج کل توحید اور ہستی الہی پر بہت زور آور حملے ہو رہے ہیں۔ عیسائیوں نے بھی بہت کچھ زور مارا اور لکھا لیکن جو کچھ کہا اور لکھا وہ اسلام کے خدا کی بابت ہی لکھا نہ کہ ایک مردہ مصلوب اور عاجز خدا کی بابت ۔ ہم دعوے سے کہتے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ہستی اور وجود پر قلم اُٹھائے گا اس کو آخر کار اسی خد کی طرف آنا پڑے گا جو اسلام نے پیش کیا ہے کیونکہ صحیفہ فطرت کے ایک ایک پتہ میں اس کا پتا ملتا ہے اور بالطبع انسان -