تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 295
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۵ سورة الم نشرح محنت اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پس استقلال اور ہمت ایک ایسی عمدہ چیز ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو انسان کامیابی کی منزلوں کو طے نہیں کر سکتا۔ اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ پہلے مشکلات میں ڈالا جاوے۔ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا اسی لئے فرمایا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۵ مورخه ۱۷ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه (۲) ساری لذت اور راحت دکھ کے بعد آتی ہے ۔ اسی لئے قرآن شریف میں یہ قاعدہ بتایا ہے اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۔ اگر کسی راحت سے پہلے تکلیف نہیں تو وہ راحت راحت ہی نہیں رہتی ۔ اسی طرح پر جولوگ کہتے ہیں کہ ہم کو عبادت میں لذت نہیں آتی ان کو پہلے اپنی جگہ سوچ لینا ضروری ہے کہ وہ عبادت کے لئے کس قدر دکھ اور تکالیف اُٹھاتے ہیں ۔ جس جس قدر دکھ اور تکالیف انسان اُٹھائے گا وہی تبدیل صورت کے بعد لذت ہو جاتا ہے۔ میری مراد ان دکھوں سے نہیں کہ انسان اپنے آپ کو بیجا مشقتوں میں ڈالے اور مالا يطاق تکالیف اُٹھانے کا دعویٰ کرے؟ ہر گز نہیں۔ الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱) انسان کی زندگی کے ساتھ مکروہات کا سلسلہ بھی لگا ہوا ہے۔ اگر انسان چاہے کہ میری ساری عمر خوشی میں گزرے تو یہ ہو نہیں سکتا ۔ فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسرًا ۔ یہ زندگی کا چکر ہے جب تنگی آوے تو سمجھنا چاہیے کہ اس کے بعد فراخی بھی ضرور آئے گی۔ ( بدر جلد انمبر ۳۱ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۱) اسلام نے بڑے بڑے مصائب کے دن گزارے ہیں ۔ اب اس کا خزاں گزر چکا ہے اور اب اس کے واسطے موسمِ بہار ہے۔ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا تنگی کے بعد فراخی آیا کرتی ہے مگر ملاں لوگ نہیں چاہتے کہ اسلام و اب بھی سرسبزی اختیار کرے۔ ( بدر جلد ۶ نمبر ۱۳ مورخه ۲۸ مارچ ۱۹۰۷ ء صفحه (۸)