تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 286
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۶ سورة الضحى ایک تعلق ہوتا ہے آتا ہے اور اس سے غرض اللہ تعالیٰ کی یہ ہوتی ہے کہ تا ان کو محبت کی چاشنی اور قبولیت دعا کے ذوق سے حصہ دے اور ان کو اعلیٰ مدارج پر پہنچادے۔ تو یہاں جو ٹی اور کیل کی قسم کھائی اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدارج عالیہ اور مراتب محبت کا اظہار ہے اور آگے پیغمبر خدا کا ابراء کیا کہ دیکھو دن اور رات جو بنائے ہیں ان میں کسی قدر وقفہ ایک دوسرے میں ڈال دیا ہے مٹی کا وقت بھی دیکھو اور تاریکی کا وقت بھی خیال کرو ۔ مَا وَدَعَكَ رَبُّكَ - خدا تعالیٰ نے تجھے رخصت نہیں کر دیا۔ اس نے تجھ سے کینہ نہیں کیا بلکہ ہمارا یہ ایک قانون ہے جیسے رات اور دن کو بنایا ہے اسی طرح انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بھی ایک قانون ہے کہ بعض وقت وحی کو بند کر دیا جاتا ہے تا کہ ان میں دعاؤں کے لئے زیادہ جوش پیدا ہو۔ اور ٹی اور کیل کو اس لئے بطور شاہد بیان فرمایا تا آپؐ کی امید وسیع ہو اور تسلی اور اطمینان پیدا ہو۔ مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان قسموں کے بیان کرنے سے اصل مدعا یہ رکھا ہے کہ تا بدیہیات کو نظریات کے ذریعہ سمجھاوے ۔اب سوچ کر دیکھو کہ یہ کیسا پر حکمت مسئلہ تھا مگر ان بدبختوں نے اس پر بھی اعتراض کیا۔ چشم بد اندیش که بر کنده باد عیب نماید هنرش در نظر ان قسموں میں ایسا فلسفہ بھرا ہوا ہے کہ حکمت کے ابواب کھلتے ہیں۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۲۱ مورخه ۱۰ رجون ۱۹۰۱ ء صفحه ۴ و الحکم جلد ۵ نمبر ۲۲ مورخه ۷ ارجون ۱۹۰۱ء صفحه ۱) وحی الہی کا یہ قاعدہ ہے کہ بعض دنوں میں تو بڑے زور سے بار بار الہام پر الہام ہوتے ہیں اور الہاموں کا ایک سلسلہ بندھ جاتا ہے اور بعض دنوں میں ایسی خاموشی ہوتی ہے کہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس قدر خاموشی کیوں ہے اور نادان لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اب خدا تعالیٰ نے ان سے کلام کرنا ہی چھوڑ د دیا ہے ۔ نبی کریم پر بھی ایک زمانہ ایسا ہی آیا تھا کہ لوگوں نے سمجھا کہ اب وحی بند ہوگئی چنانچہ کافروں نے ہنسی شروع کی کہ اب خدا نعوذ باللہ ہمارے رسول کریم سے ناراض ہو گیا ہے اور اب وہ کلام نہیں کرے گا لیکن خدا تعالیٰ نے اس کا جواب قرآن شریف میں اس طرح دیا ہے کہ وَالضُّحٰی وَ الَّيْلِ إِذَا سَجِي مَا وَدَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى یعنی قسم ہے دھوپ چڑھنے کے وقت کی اور رات کی ۔ نہ تو تیرے رب نے تجھ کو چھوڑ دیا اور نہ تجھ سے ناراض ہوا۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ جیسے دن چڑھتا ہے اور اس کے بعد رات خود بخود آ جاتی ہے اور پھر اس کے بعد دن کی روشنی نمودار ہوتی ہے اور اس میں خدا تعالیٰ کی خوشی یا ناراضگی کی کوئی بات نہیں۔ یعنی دن چڑھنے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ اس وقت اپنے بندوں پر خوش ہے اور نہ رات پڑنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ام