تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 276

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۶ سورة الشمس دے۔ جس میں اس کی رضا حاصل ہو۔ حدیث میں ہے کہ کوئی چور چوری نہیں کرتا مگر اس حالت میں کہ وہ مومن نہیں ہوتا اور کوئی زانی زنا نہیں کرتا مگر اس حالت میں کہ وہ مومن نہیں ہوتا ۔ جسے بکری کے سر پر شیر کھڑا ہو تو وہ گھاس بھی نہیں کھا سکتی۔ تو بکری جتنا ایمان بھی لوگوں کا نہیں ہے۔ اصل جڑ اور مقصود تقویٰ ہے جسے وہ عطا ہو تو سب کچھ پا سکتا ہے بغیر اس کے ممکن نہیں ہے کہ انسان صغائر اور کبائر سے بچ سکے۔ البدر جلد نمبرے مورخہ ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۵۱) مجاہدات پر اللہ تعالیٰ کی راہیں کھلتی ہیں اور نفس کا تزکیہ ہوتا ہے جیسے فرمایا ہے قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۰) اسلام کسی سہارے پر رکھنا نہیں چاہتا کیونکہ سہارے پر رکھنے سے ابطال اعمال لازم آجاتا ہے لیکن جب انسان سہارے کے بغیر زندگی بسر کرتا ہے اور اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے اس وقت اس کو اعمال کی ضرورت پڑتی ہے اور کچھ کرنا پڑتا ہے اسی لئے قرآن شریف نے فرمایا ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا فلاح وہی پاتا ہے جو اپنا تزکیہ کرتا ہے خودا گر انسان ہاتھ پاؤں نہ ہلائے تو بات نہیں بنتی۔ الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ (۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ کو اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ بڑے سیدھے سادے تھے جیسے کہ ایک برتن قلعی کرا کر صاف اور ستھرا ہو جاتا ہے ایسے ہی ان لوگوں کے دل تھے جو کلام الہی کے انوار سے روشن اور کدورت نفسانی کے رنگ سے بالکل صاف تھے گویا ، قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَهَا کے سچے مصداق تھے ۔ الحکم جلدے نمبر ۲۴ مورخه ۳۰ رجون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۰) آنحضرت اور صحابہ کرام کے زمانہ کو دیکھا جاوے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ بڑے سیدھے سادے ہوتے تھے۔ جب ایک برتن کو مانج کر صاف کر دیا جاتا ہے پھر اس پر قلعی ہوتی ہے اور پھر نفیس اور مصفا کھانا اس میں ڈالا جاتا ہے۔ یہی حالت ان کی تھی اگر انسان اسی طرح صاف ہو اور اپنے آپ کو قلعی دار برتن کی طرح منور کرے تو خدا تعالیٰ کے انعامات کا کھانا اس میں ڈال دیا جاوے لیکن اب کس قدر انسان ہیں جو ایسے ہیں اور آیت قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا کے مصداق ہیں ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخه ۲۶ جون ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۷۷) خدا یابی اور خدا شناسی کے لئے ضروری امر یہی ہے کہ انسان دعاؤں میں لگا رہے۔ زنانہ حالت اور