تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 225
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۵ سورة الطارق ذات الصلع کہہ کرفرمایا انه لَقَولُ فَصل ۔ جو کلام الہی کے لئے بولا گیا ہے۔ یہ ایک نظری امر تھا اس کے ثبوت کے لئے بدیہی امر کو پیش کیا ہے جیسے امساک باراں کے وقت ضرورت ہوتی ہے مینہ کی ۔ اسی طرح پر اس وقت لوگ روحانی پانی کو چاہتے ہیں ۔ زمین بالکل مر چکی ہے ۔ یہ زمانہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ کا ہو گیا ہے جنگل اور سمندر بگڑ چکے ہیں۔ جنگل سے مراد مشرک لوگ اور بحر سے مراد اہلِ کتاب ہیں۔ جاہل و عالم بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ غرض انسانوں کے ہر طبقہ میں فساد واقع ہو گیا ہے۔ جس پہلو اور جس رنگ میں دیکھو دنیا کی حالت بدل گئی ہے روحانیت باقی نہیں رہی اور نہ اس کی تاثیریں نظر آتی ہیں۔ اخلاقی اور عملی کمزوریوں میں ہر چھوٹا بڑا مبتلا ہے۔ خدا پرستی اور خدا شناسی کا نام و نشان مٹا ہوا نظر آتا ہے اس لئے اس وقت ضرورت ہے کہ آسمانی پانی اور نور نبوت کا نزول ہو اور مستعد دلوں کو روشنی بخشے ۔ خدا تعالیٰ کا شکر کرو۔ اس نے اپنے فضل سے اس وقت اس نور کو نازل کیا ہے مگر تھوڑے ہیں جو اس نور سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۲ مورخہ ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۲،۱) بعض لوگ یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن شریف گردشِ آسمان کا قائل ہے جیسے فرمایا وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الرجع حالانکہ آج کل کے بچے بھی جانتے ہیں کہ زمین گردش کرتی ہے۔ غرض اسی قسم کے بیسیوں اعتراض کر دیتے ہیں اور تا وقتیکہ ان علوم میں کچھ مہارت اور واقفیت نہ ہو جواب دینے میں مشکل پیدا ہوتی ہے۔ یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ زمین یا آسمان کی گردش ظنی امور ہیں ان کو یقینیات میں داخل نہیں کر سکتے ۔ ایک زمانہ تک گردش آسمان کے قائل رہے پھر زمین کی گردش کے قائل ہو گئے ۔ سب سے زیادہ ان لوگوں کی طبابت پر ہے لیکن اس میں بھی دیکھ لو کہ آئے دن تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً پہلے ذیا بیطس کے لئے یہ کہتے تھے کہ اس کے مریض کو میٹھی چیز نہیں کھانی چاہیے مگر اب جو تحقیقات ہوئی ہے تو کہتے ہیں کچھ ہرج نہیں اگر سنگترہ بھی مریض کھالے یا چاء پی لے۔ مشق غرض یہ سب علوم ظنی ہیں ۔ اس موقع پر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ کے معنے بتا دیئے جاویں کیونکہ اس کا ذکر آ گیا ہے۔ سو یا د رکھنا چاہیے کہ سماء کے معنے آسمان ہی کے نہیں ہیں بلکہ سماء مینہ کو بھی کہتے ہیں ۔ گویا اس آیت میں اس مینہ کی جو زمین کی طرف رجوع کرتا ہے قسم کھائی ہے اور پھر وہ زمین جس سے شگوفے نکلتے ہیں ۔ اکیلی زمین اور اکیلا آسمان کچھ نہیں کر سکتا۔ اس آیت کو اللہ تعالیٰ ضرورت وحی پر بطور مثال پیش کرتا ہے کہ ہر چند زمین میں جو جوہرِ قابل ہوں اور اس کی فطرت میں نشو و نما کا مادہ ہو لیکن وہ