تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 214

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۴ سورة الطارق وَمِنْ أَقْسَامِهِ جِمَالٌ وَ حَمِيرٌ وأَ فَرَاسُ وَكُلُّ اور اسی قسم کے دوسرے تمام چار پائے ہیں جو زمین پر دَابَّةٍ تَدُبُّ عَلَى الْأَرْضِ وَ كُلُّ طَيْرِ يَطِيرُ چلتے ہیں اور ہوا میں اڑنے والے تمام پرندے ہیں اور فِي الْهَوَاءِ وَ مِنْ أَقْسَامِهِ الْإِنْسَانُ الَّذِی اس کی اقسام میں سے انسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خُلِقَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ وَ فُضْلَ عَلَى كُلِّ احسنِ تقویم میں پیدا کیا ہے اور ہر رینگنے اور چلنے والے مَنْ دَبَّ وَ مَشَى وَ مِنْ أَقْسَامِهِ الْوَحی حیوان پر اس کو فضیلت دی گئی ہے اور اسی کی اقسام میں وَالنُّبُوَّةُ وَالرَّسَالَةُ وَالْعَقْلُ وَ الْفَطَانَةُ سے وحی اور نبوت و رسالت اور عقل ، فطانت، شرافت، وَالشَّرَافَةُ وَالنَّجَابَةُ وَالسَّفَاهَةُ وَالْجَهْلُ نجابت ، بیوقوفی، جہالت ، حماقت ، رذالت اور وَالْحُمْقُ وَالرَّذَالَةُ وَ تَرْكُ الْحَيَاءِ وَ مِنْ بے حیائی ہیں اور اسی کی اقسام میں سے انبیاء اور أَقْسَامِهِ نُزُولُ أَرْوَاحِ الْأَنْبِيَاءِ وَالرُّسُلِ رسولوں کی ارواح کا ہر اس وجود پر انعکاسی طور پر نزول نُزُولًا انْعِكَاسِيًّا عَلَى كُلِّ مَنْ يُنَاسِبُ کرنا ہے جو ان کی فطرت کے مشابہ ہو اور جو ہر اور فِطْرَتَهُمْ وَ يُشَابِهُ جَوْهَرَهُمْ وَ خِلْقَتَهُمْ خلقت اور صدق وصفا میں ان کے مشابہ ہو۔اس سے فِي الْخَلْقِ وَالصِّدْقِ وَ الصَّفَاءِ وَ مِنْ هَهُنَا یہ بات واضح ہوگئی کہ نجوم کی تاثیرات ثابت شدہ متحقق ظَهَرَ أَنَّ تَأْثِيرَاتِ النُّجُومِ ثَابِتَةٌ مُتَحَقِّقَةٌ اور مسلمہ ہیں اور اس میں صرف جاہل ، کند ذہن جو مَنْصُوصَةٌ وَلَا يَشُكُ فِيهَا إِلَّا الْجَاهِلُ قرآن کریم میں غور و فکر نہیں کرتا اور اندھوں کی طرح الْغَبِيُّ الْبَلِيدُ الَّذِي لَا يَنْظُرُ فِي الْقُرْآنِ جھگڑتا ہے وہی شک کر سکتا ہے اور یہ رجع اور صدع کا وَيُجَادِلُ كَالْأَعْمَى وَهَذَا الرَّجُعُ وَالصَّدْعُ عمل آسمانوں اور زمین میں اس دن سے جاری ہے جَارُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مِنْ يَوْمٍ جب سے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو پیدا کیا ہے اور ان خَلَقَهُمَا اللَّهُ وَ قَالَ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا کو کہا انتِيَا طَوْعًا أَوْ کرھا تو انہوں نے کہا آتَيْنَا قَالَتَا أَتَيْنَا طَابِعِينَ ۔ فَمَالَتِ السَّمَاءُ إِلَى طَابِعِينَ - پس آسمان زمین کی طرف اس طرح مائل الْأَرْضِ كَالذَّكَرِ إِلَى الأُنثى، وَلِأَجْلِ ہوا جس طرح نر مادہ کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اسی لئے ذَالِكَ اخْتَارَ الرَّبُّ الْكَرِيمُ لَفَظَ الرَّجْعِ رب کریم نے آسمان کے لئے لفظ رجع اختیار کیا اور لِلسَّمَاءِ وَلَفْظَ الصَّدْعِ لِلْأَرْضِ إِشَارَةً زمین کے لئے لفظ صدع ۔ اور اس میں اس بات کی إلى أنهُمَا تَجْتَمِعَانِ دَائما اجتماع طرف اشارہ کیا کہ یہ دونوں ہمیشہ نر و مادہ کی طرح جمع