تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 204
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۴ سورة الطارق - اور بدکار بھی سچی خواب دیکھ لیتا ہے اور یہ سب روح القدس کا اثر ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ نبویہ سے ثابت ہے مگر وہ تعلق عظیم جو مقدسوں اور مقربوں کے ساتھ ہے اس کے مقابل پر یہ کچھ چیز نہیں گویا کالعدم ہے۔ از انجملہ ایک یہ سوال ہے کہ جس حالت میں روح القدس انسان کو بدیوں سے روکنے کے لیے مقرر ہے تو پھر اس سے گناہ کیوں سرزد ہوتا ہے اور انسان کفر اور فسق اور فجور میں کیوں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کا یہ جواب ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کے لیے ابتلا کے طور پر دو روحانی داعی مقرر کر رکھے ہیں ۔ ایک داعی خیر جس کا نام روح القدس ہے اور ایک داعی شر جس کا نام ابلیس اور شیطان ہے۔ یہ دونوں داعی صرف خیر یا شر کی طرف بلاتے رہتے ہیں مگر کسی بات پر جبر نہیں کرتے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں اسی امر کی طرف اشارہ ہے فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَ تَقُولُهَا ( الشمس : - یعنی ٩) خدا بدی کا بھی الہام کرتا ہے اور نیکی کا بھی ۔ بدی کے کے الہام الی کا ذریعہ شیطان ہے جو شرارتوں کے خیالات دلوں میں ڈالتا ہے اور نیکی کے الہام کا ذریعہ روح القدس ہے جو پاک خیالات دل میں ڈالتا ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ علت العلل ہے اس لئے یہ دونوں الہام خدا تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کر لئے کیونکہ اسی کی طرف سے یہ سارا انتظام ہے ورنہ شیطان کیا حقیقت رکھتا ہے جو کسی کے دل میں وسوسہ ڈالے اور روح القدس کیا چیز جو کسی کو تقویٰ کی راہوں کی ہدایت کرے۔ ہمارے مخالف آریہ اور برہمو اور عیسائی اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے قرآن کریم کی تعلیم پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اس تعلیم کی رو سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے دانستہ انسان کے پیچھے شیطان کو لگا رکھا ہے گو یا اس کو آپ ہی خلق اللہ کا گمراہ کرنا منظور ہے مگر یہ ہمارے شتاب باز مخالفوں کی غلطی ہے ان کو معلوم کرنا چاہئے کہ قرآن کریم کی یہ تعلیم نہیں ہے کہ شیطان گمراہ کرنے کے لیے جبر کر سکتا ہے اور نہ یہ تعلیم ہے کہ صرف بدی کی طرف بلانے کے لیے شیطان کو مقرر کر رکھا ہے بلکہ یہ تعلیم ہے کہ آزمائش اور امتحان کی غرض سے لمہ ملک اور لمہ ابلیس برابر طور پر انسان کو دیئے گئے ہیں یعنی ایک داعی خیر اور ایک داعی شر تا انسان اس ابتلا میں پڑ کر مستحق ثواب یا عقاب کا ٹھہر سکے کیونکہ اگر اس کے لیے ایک ہی طور کے اسباب پیدا کئے جاتے مثلاً اگر اس کے بیرونی اور اندرونی اسباب جذبات فقط نیکی کی طرف ہی اس کو کھینچتے یا اس کی فطرت ہی ایسی واقعہ ہوتی کہ وہ بجز نیکی کے کاموں کے اور کچھ کر ہی نہ سکتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ نیک کاموں کے کرنے سے اس کو کوئی مرتبہ قرب کامل سکے کیونکہ اس کے لیے تو تمام اسباب و جذبات نیک کام کرنے کے ہی موجود ہیں یا یہ کہ بدی کی خواہش تو ابتدا