تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 201

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ سورة الطارق بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الطارق بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ وَمَا أَدْرَكَ مَا الطَّارِقُ النَّجْمُ الثَّاقِبُ إِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَمَّا عَلَيْهَا حَافِظُ ♡ اور اگر یہ سوال ہو کہ قرآن کریم میں اس بات کی کہاں تشریح یا اشارہ ہے کہ روح القدس مقربوں میں ہمیشہ رہتا ہے اور ان سے جدا نہیں ہوتا تو اس کا یہ جواب ہے کہ سارا قرآن کریم ان تصریحات اور اشارات سے بھرا پڑا ہے بلکہ وہ ہر یک مومن کو روح القدس ملنے کا وعدہ دیتا ہے چنانچہ منجملہ ان آیات کے جو اس بارہ میں کھلے کھلے بیان سے ناطق ہیں ۔ سورۃ الطارق کی پہلی دو آیتیں ہیں اور وہ یہ ہیں وَ السَّمَاءِ وَ الطَّارِقِ ۔ وَمَا أَدْرَكَ مَا الطَّارِقُ - النَّجْمُ الثَّاقِبُ - اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ - یہ آخری آیت یعنی اِن كُلُّ نَفْسٍ لمَّا عَلَيْهَا حَافِظ جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک نفس پر ایک فرشتہ نگہبان ہے یہ صاف دلالت کر رہی ہے کہ جیسا کہ انسان کے ظاہر وجود کے لیے فرشتہ مقرر ہے جو اُس سے جدا نہیں ہوتا ویسا ہی اس کے باطن کی حفاظت کے لیے بھی مقرر ہے جو باطن کو شیطان سے روکتا ہے اور گمراہی کی ظلمت سے بچاتا ہے اور وہ روح القدس ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں پر شیطان کا تسلط ہونے نہیں دیتا اور اسی کی طرف یہ آیت بھی اشارہ کرتی ہے کہ اِن عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَن ۔ اب دیکھو کہ یہ آیت کیسے صریح طور پر بتلا رہی ہے