تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 189

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۱۸۹ سورة الانفطار بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الانفطار بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِذَا السَّمَاءُ الْفَطَرَتْ وَ إِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ ، وَإِذَا الْبِحَارُ فَجَرَتْ ۔ اسی زمانہ کی علامات میں جبکہ ارضی علوم و فنون زمین سے نکالے جائیں گے بعض ایجادات اور صناعات کو بطور نمونہ کے بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے ۔ ۔۔۔۔ وَ إِذَا الْبِحَارُ فَجْرَت اور جس وقت دریا چیرے جاویں گے یعنی زمین پر نہریں پھیل جائیں گی۔ اور کاشتکاری کثرت سے ہوگی ۔۔۔۔۔۔ وَ إِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَت اور جس وقت تارے جھڑ جاویں گے یعنی ربانی علماء فوت ہو جائیں گے کیونکہ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ زمین پر تارے گریں اور پھر زمین پر لوگ آبادرہ سکیں۔ یادر ہے کہ مسیح موعود کے آنے کے لیے اسی قسم کی پیشگوئی انجیل میں بھی ہے کہ وہ اس وقت آئے گا کہ جب زمین پر تارے گر جائیں گے اور سورج اور چاند کا نور جاتا رہے گا۔ اور ان پیشگوئیوں کو ظاہر پر حمل کرنا اس قدر خلاف قیاس ہے کہ کوئی دانا ہر گز یہ تجویز نہیں کرے گا کہ در حقیقت سورج کی روشنی جاتی رہے اور ستارے تمام زمین پر گر پڑیں اور پھر زمین بدستور آدمیوں سے آباد ہو اور اُس حالت میں مسیح موعود آوے۔ ۔۔۔۔۔۔ ایسا ہی فرمایا ۔ اِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَت اور انجیل میں بھی اسی کے مطابق مسیح موعود کے آنے کی خبر دی ہے مگر ان آیتوں سے یہ مراد نہیں ہے کہ در حقیقت اُس وقت آسمان پھٹ جائے گا یا اُس کی قوتیں سست ہو جائیں گی بلکہ مدعا یہ ہے کہ جیسے پھٹی ہوئی چیز بیکار ہو جاتی ہے ایسا ہی آسمان بھی بیکار سا