تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 187

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۷ سورة التكوير یہ زمانہ اس قسم کا آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے وسائل پیدا کر دیئے ہیں کہ دنیا ایک شہر کا حکم رکھتی ہے اور وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتُ کی پیشگوئی پوری ہوگئی ہے۔ اب سب مذاہب میدان میں نکل آئے ہیں اور یہ ضروری امر ہے کہ ان کا مقابلہ ہو اور ان میں ایک ہی سچا ہو گا اور غالب آئے گا۔ وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتُ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱) إِنَّكُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسِيحَ يَأْتِي فِي آخِرِ تمہیں بخوبی علم ہے کہ مسیح موعود کا ظہور آخری زمانہ الزَّمَانِ وَ قَدْ رَأَيْتُمْ بِأَعْيُنِكُمْ عَلَامَاتِهِ میں ہوگا اور تم نے اس کی علامات کو اپنی آنکھوں سے پورا وَشَاهَدتُمُ النَّوَادِرَ الْأَرْضِيَّةَ الَّتِي جَعَلَهَا ہوتے دیکھ لیا ہے۔ نیز تم نے ان ارضی ایجادات کا بھی الْقُرْآنُ الْكَرِيمُ مِنْ أَثَارِ الزَّمَنِ الْمُتَأَخَرِ مشاہدہ کر لیا ہے جن کو قرآن کریم نے آخری زمانہ کے وَ أَنْتُمْ مِنْهَا تَنْتَفِعُوْنَ۔ فَمَا لَكُمْ لا نشانات قرار دیا ہے اور تم ان ایجادات سے فائدہ اُٹھا تُؤْمِنُوْنَ بِالتَّوَادِرِ السَّمَاوِيَّةِ الَّتِي تَدلُّ رہے ہو۔ پس تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ ان آسمانی نشانات پر عَلَيْهَا الْآيَةُ الْكَرِيمَةُ أَعْنِي بِذَالِكَ قَوْلَهُ ایمان نہیں لاتے جن کو آیہ کریمہ إِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتُ تَعَالَى إِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتُ وَ تَخْلُدُونَ إِلَى بیان کر رہی ہے۔ تم زمین کی طرف جھکتے جارہے ہولیکن الْأَرْضِ وَمِنْ الَآءِ السَّمَاءِ تَبْعُدُونَ آسمانی نعمتوں سے دور ہو۔ (ترجمہ از مرتب ) ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۷۸) وَالَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ ۔ وَلِكُلِّ كَمَالٍ زَوَالٌ وَلِكُلِّ تَرَعُرُعِ ہر کمال کو آخرز وال دیکھنا پڑتا ہے۔ اسی طرح ہر ترقی اضْمِحْلَالُ كَمَا تَرَى أَنَّ السَّيْلَ إِذَا کے بعد تنزل کا دور آتا ہے۔ جیسا کہ تم دنیا میں مشاہدہ وَصَلَ إِلَى الْجَبَلِ الرَّاسِي وَقَفَ وَ کرتے ہو کہ جب سیلاب بلند پہاڑوں تک پہنچتا ہے تو رک اللَّيْلُ إِذَا بَلَغَ إِلَى الصُّبْحِ الْمُسْفِرِ جاتا ہے۔ اور رات جب روشن صبح تک پہنچتی ہے تو اس کی انْكَشَفَ كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالى وَاليْلِ تاریکی ختم ہو جاتی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا