تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 181
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۱ سورة التكوير گے۔ پہلی کتابوں میں بھی اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت آمد ورفت سہل ہو جاوے گی ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۴) (ریل وغیرہ کے ذکر پر فرمایا۔) ٹھوکریں اس زمانہ میں خدا نے ہماری جماعت کو فائدہ پہنچایا ہے کہ سفر کو بہت آرام ہے ورنہ کہاں سے کہاں ہیں کھاتا ہوا انسان ایک سے دوسرے مقام پر پہنچتا تھا۔ مدر اس جہاں سیٹھ عبدالرحمن ہیں اگر کوئی جاتا تو گرمیوں میں روانہ ہوتا تو سردیوں میں پہنچتا تھا۔ اس زمانہ کی نسبت خدا نے خبر دی ہے وَ إِذَا النُّفُوسُ زوجت کہ جب ایک اقلیم کے لوگ دوسرے اقلیم والوں کے ساتھ ملیں گے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخه ۶ رفروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۱) وَ إِذَا الصُّحُفُ نُشِرَت یعنی اس وقت خط و کتابت کے ذریعے عام ہوں گے اور کتب کثرت سے دستیاب ہو سکیں گی ۔ وَ إِذَا الْعِشَارُ عطلت اس وقت اونٹنیاں بیکار ہوں گی ۔ ایک زمانہ تھا کہ یہاں ہزار ہا اونٹ آیا کرتے مگر اب نام و نشان بھی نہیں ہے اور مکہ میں بھی اب نہ رہیں گے۔ ریل کے جاری ہونے کی دیر ہے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخه ۱۳ رفروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۶) اس وقت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اور خرابیوں کے علاوہ اسلام کو بھی مردہ مذہب بتایا جاتا ہے حالانکہ نہ وہ کبھی مردہ ہوگا۔ خدا تعالیٰ نے اس کی زندگی کے ثبوت میں آسمان سے نشان دکھائے ۔۔۔۔ وَ إِذَا الْعِشَارُ عطلت کے موافق ریلیں بھی جاری ہوئیں۔ غرض وہ نشان جو اس زمانہ کے لئے رکھے تھے پورے ہوئے مگر یہ کہتے ہیں کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا۔ الحکم جلدے نمبرے مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۰۳ ء صفحہ ۴) وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِلَتْ کے موافق اونٹنیاں بیکار ہوگئیں جو اس آخری زمانہ کا ایک نشان ٹھہرایا گیا تھا۔ عشار حاملہ اونٹنیوں کو کہتے ہیں ۔ یہ لفظ اس لئے اختیار کیا گیا ہے تا یہ وہم نہ رہے جیسا بعض لوگ کہتے ہیں کہ قیامت کے متعلق ہے۔ قیامت میں تو حمل نہ ہوگا۔ اور بیکار ہونا یہاں تو الگ رہا مکہ مدینہ کے درمیان بھی ریل طیار ہو رہی ہے ۔ اخبارات نے بھی اس آیت اور مسلم کی حدیث سے استنباط کر کے مضامین لکھے ہیں ۔ - پس یہ اور دوسرے نشان تو پورے ہو گئے ہیں۔ میں اگر صادق نہیں ہوں تو دوسرے مدعی کا نشان بتاؤ اور اس کا ثبوت دیکھو۔ الحکم جلدے نمبر ۸ مورخه ۲۸ رفروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۴، ۵ ) انسانی صنعتوں کا انحصار خدا تعالیٰ کے فضل پر ہے۔ ریل کے واسطے قرآن شریف میں دو اشارے ہیں ۔ اول إِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ - دوم إِذَا الْعِشَارُ عُطِلَتُ - عشار حمل دار اونٹنی کو کہتے ہیں۔ حمل کا ذکر اس لئے کیا -