تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 43

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدالله سورة ص کی طرف کھینچا جائے ۔ سو ہر ایک اس نور کو دیکھ کر سجدہ کرتا ہے۔ اور طبعاً اس طرف آتا ہے بجز ابلیس کے جو تاریکی سے دوستی رکھتا ہے۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۲۲) قَالَ يَابْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ اَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِينَ خدا نے آدم کو جمعہ کے دن عصر کے وقت بنایا کیونکہ اس کو منظور تھا کہ آدم کو جلال اور جمال کا جامع بناوے جیسا کہ اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ خَلَقْتُ بیدی یعنی آدم کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ خدا کے ہاتھ انسان کی طرح نہیں ہیں ۔ پس دونوں ہاتھ سے مراد جمالی اور جلالی تحقی ہے۔ پس اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدم کو جلا لی اور جمالی تجلی کا جامع پیدا کیا گیا ہے۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۸۱، ۲۸۲ حاشیه ) ایک علو تو اس رنگ میں ہوتا ہے جیسے کہ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ (الضحی : ۱۲) اور ایک علو شیطان کا ہوتا ہے جیسے آبی وَاسْتَكْبَر اور اس کے بارہ میں ہے اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِین یہ اس سے سوال ہے کہ تیراعلو تکبر کے رنگ میں ہے یا واقعی ہے۔ خدا تعالیٰ کے بندوں کے واسطے بھی اعلیٰ کا لفظ آیا ہے اور ہمیشہ آتا ہے جیسے اِنَّكَ اَنْتَ الاعلیٰ مگر یہ تو انکسار سے ہوتا ہے اور وہ تکبر سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ البدر جلد اول نمبر امورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ ء صفحه (۴) قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ یا د رکھو تکبر شیطان سے آیا ہے اور شیطان بنا دیتا ہے جب تک انسان اس سے دور نہ ہو یہ قبول حق اور فیضانِ الوہیت کی راہ میں روک ہو جاتا ہے کسی طرح سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہیے نہ علم کے لحاظ سے نہ دولت کے لحاظ سے نہ وجاہت کے لحاظ سے نہ ذات اور خاندان اور حسب نسب کی وجہ سے کیونکہ زیادہ تر انہی باتوں سے یہ تکبر پیدا ہوتا ہے اور جب تک انسان ان گھمنڈوں سے اپنے آپ کو پاک صاف نہ کرے گا اس وقت تک وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک برگزیدہ نہیں ہو سکتا اور وہ معرفت جو جذبات کے موادرڈ یہ کو جلا دیتی ہے اس کو عطا نہیں ہوتی کیونکہ یہ شیطان کا حصہ ہے اس کو اللہ تعالی پسند نہیں کرتا شیطان نے بھی تکبر کیا تھا اور آدم سے اپنے آپ