تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 39

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹ سمجھ میں آتی جاویں انہیں پیش کئے جاؤ وہ کسی نہ کسی کو فائدہ پہنچائیں گی۔ سورة ص الحکم جلد ۸ نمبر ۶ مورخہ ۷ ارفروری ۱۹۰۴ء صفحہ ۶ ) انبیاء علیہم السلام کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے أُولِي الْأَيْدِي وَ الْأَبْصَارِ جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ کام کرنے والے اور دیکھ بھال کر ان راہوں کی طرف بلاتے تھے جن پر خدا تعالیٰ نے انہیں قائم کیا تھا اور وہ تصورات کے پیچھے لگنے والے اور خیالی آدمی نہ تھے وہ عملی آدمی تھے اور علی وجہ البصیرت حق کی طرف بلاتے تھے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۳۴ مورخه ۷ ارستمبر ۱۹۰۱ء صفحه ۹۰۸) هذَا ذِكرُ وَ إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَابِ جَنَّتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَهُمُ الأبواب۔ رفع تمام تمام انبیاء اور رسل اور مومنوں میں عام ہے ۔ مرنے کے بعد ہر ایک مومن کا رفع ہوتا ہے۔ چنانچہ آیت هُذَا ذِكْرٌ وَ إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَاب - جَنَّتِ عَدْنٍ مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ میں اس رفع کی طرف اشارہ ہے لیکن کا فر کا رفع نہیں ہوتا چنانچہ آیت لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ اس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۱۷) مُفَتَحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ یعنی مومنوں کے لئے آسمانوں کے دروازے کھولے جائیں گے۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۰) حضرت عیسیٰ کے رفع کو رفع جسمانی ٹھہرانا سراسر ہٹ دھرمی اور حماقت ہے بلکہ یہ وہی رفع ہے جو ہر ایک مومن کے لئے وعدہ الہی کے موافق موت کے بعد ہونا ضروری ہے اور کافر کے لئے حکم ہے کہ لا تُفتح لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ (الاعراف: ۴۱) یعنی ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے یعنی ان کا رفع نہیں ہوگا جیسا کہ دوسری جگہ فرماتا ہے مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ ۔ پس سیدھی بات کو الٹا دینا تقویٰ اور طہارت کے برخلاف اور ایک طور سے تحریف کلام الہی ہے۔ - ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۵۵) پاک لوگ دوسرے جسم کے ساتھ آسمان پر جا سکتے ہیں جیسا کہ تمام نبیوں اور رسولوں اور مومنوں کی روحیں وفات کے بعد آسمان پر جاتی ہیں اور انہیں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مُفَتَّحَةً لَهُمُ الْأَبْوَابُ ۔ یعنی