تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 15
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵ سورة يس چیزیں بھی پیدا کرے۔ بیشک قادر ہے اور وہ خلاق علیم ہے یعنی خالقیت : ہے اور وہ خلاق علیم ہے یعنی خالقیت میں وہ کامل ہے اور ہر ایک طور سے پیدا کرنا جانتا ہے۔ جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۰۱) إِنَّمَا أَمْرَةً إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ۔ اگر یہ اعتراض پیش ہو کہ قرآن کریم میں جو خدا تعالیٰ نے کئی بار فرمایا ہے کہ ہم نے چھ دن میں زمین و آسمان کو پیدا کیا تو یہ امر ضعف پر دلالت کرتا ہے کیونکہ معاً اس کے ارادہ کے ساتھ ہی سب کچھ ہو جانا لازم ہے جیسا کہ وہ آپ ہی فرماتا ہے اِنَّمَا أَمْرُةَ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُون یعنی جب خدا تعالیٰ ایک چیز کے ہونے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کا امرایسی قوت اور طاقت اور قدرت اپنے اندر رکھتا ہے کہ وہ اس چیز جو اس کے علم میں ایک علمی وجود رکھتا ہے فقط یہ کہتا ہے کہ ہو تو ہو جاتی ہے۔ اس وہم کا جواب یہ ہے کہ قدرت اور طاقت کا مفہوم اس بات کو مستلزم نہیں کہ وہ چیز خواہ نخواہ بلا توقف ہو جائے اور نہ ارادہ کے مفہوم میں ضروری طور پر یہ بات داخل ہے کہ جس چیز کا ارادہ کیا گیا ہے وہ اسی وقت ہو جائے بلکہ اسی حالت میں ایک قدرت اور ایک ارادہ کو کامل قدرت اور کامل ارادہ کہا جائے گا جبکہ وہ ایک فاعل کے اصل منشاء کے موافق جلد یا دیر کے ساتھ جیسا کہ منشاء ہو ظہور میں آوے مثلاً چلنے میں کامل قدرت اس شخص کی نہیں کہہ سکتے کہ جلد جلد وہ چل سکتا ہے اور آہستہ آہستہ چلنے سے وہ عاجز ہے بلکہ اس شخص کو کاملا ص کو کامل القدرت کہیں گے کہ جو دونو طور جلد اور دیر میں قدرت رکھتا ہو۔ یا مثلاً ایک شخص ہمیشہ اپنے ہاتھ کو لمبا تھ کو لمبا رکھتا ہے اور اکٹھا کرنے کی طاقت نہیں یا کھڑا رہتا ہے اور بیٹھے کی طاقت نہیں تو ان سب صورتوں میں ہم اس کو قوی قرار نہیں دیں گے بلکہ بیمار اور معلول کہیں گے ۔ غرض قدرت اسی وقت کامل طور پر متحقق ہو سکتی ہے کہ جبکہ دونوں شق سرعت اور بطو پر قدرت ہو اگر ایک شق پر قدرت ہو تو وہ قدرت نہیں بلکہ عجز اور ناتوانی ہے تعجب کہ ہمارے مخالف خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت کو بھی نہیں دیکھتے کہ دنیا میں اپنے قضاء قدر کو جلد بھی نازل کرتا ہے اور دیر سے بھی۔ ہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ صفات قہر یہ اکثر جلدی کے رنگ میں ظہور پذیر ہوتے ہیں اور صفات لطیفہ دیر اور توقف کے پیرا یہ میں ۔ مثلاً انسان نو مہینے پیٹ میں رہ کر اپنے کمال وجود کو پہنچتا ہے اور مرنے کے لئے کچھ بھی دیر کی ضرورت نہیں مثلاً انسان اپنے مرنے کے وقت صرف ایک ہی ہیضہ کا دست یا تھوڑا سا پانی قے کے طور پر نکال کر راہی ملک بقا ہو جاتا ہے اور وہ بدن جس کی سالہائے دراز میں ظاہری اور باطنی تکمیل