تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 442 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 442

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۲ سورة الجمعة کہ کوئی زمانہ ایسا بھی ہے جو صحابہ کے مشرب کے خلاف ہے اور واقعات بتا رہے ہیں کہ اس ہزار سال کے درمیان اسلام بہت سی مشکلات اور مصائب کا نشانہ رہا ہے۔ معدودے چند کے سوا سب نے اسلام کو چھوڑ دیا اور بہت سے فرقے معتزلہ اور اباحتی وغیرہ پیدا ہو گئے ہیں ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ راگست ۱۹۰۲ ء صفحه ۵ ) یہ وہی وقت اور جمعہ ہے جس میں وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کی پیشگوئی پوری ہوتی ہے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور بروزی رنگ میں ہوا ہے اور ایک جماعت صحابہ کی پھر قائم ہوئی ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۱۸ مورخه ۷ ارمئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۶ ) وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِم جو فرمایا گیا ہے یہ مسیح موعود کے زمانہ کے لئے ہے اور اس کے مِنْهُم کے وہی معنی ہیں جو اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ میں مِنْكُمْ سے مراد ہے۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ وہ گروہ بھی صحابہ ہی کا گروہ ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۱) رض رض آخَرِينَ مِنْهُمْ کہہ کر جو خدا تعالیٰ اس جماعت کو صحابہؓ سے ملاتا ہے تو صحابہؓ کا سا اخلاص اور وفاداری اور ارادت ان میں بھی ہونی چاہیے۔ صحابہؓ نے کیا کیا۔ جس طرح پر انہوں نے خدا تعالیٰ کے جلال کے اظہار کو دیکھا اسی طریق کو انہوں نے اختیار کر لیا یہاں تک کہ اس کی راہ میں جانیں دے دیں۔ وہ جانتے تھے کہ بیویاں بیوہ ہوں گی ۔ بچے یتیم رہ جائیں گے۔ لوگ ہنسی کریں گے مگر انہوں نے اس امر کی ذرا پرواہ نہ کی ۔ انہوں نے سب کچھ گوارا کیا مگر اس ایمان کے اظہار سے نہر کے جو وہ اللہ اور اس کے رسول پر لائے تھے۔ حقیقت میں ان کا ایمان بڑا قوی تھا۔ اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ ء صفحه (۳) قرآن ہر میدان میں فتحیاب ہے۔ آپ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا اور آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کہہ کر مسیح موعود کو اپنا بروز بتا دیا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۵) اخَرِيْنَ مِنْهُمْ کے قائم مقام توریت کی ایک آیت تھی جس سے مسیح اسرائیلی کا گروہ مراد تھا اور یہاں آخَرِينَ مِنْهُمُ سے ہمارا گر وہ ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخه ۲۷ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۴۲) اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ میں سے ایک اور گروہ بھی ہے مگر ابھی وہ ان سے ملے نہیں۔ ان کے اخلاق ، عادات ، صدق اور اخلاص صحابہؓ کی طرح ہوگا۔ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۵ مورخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۷ ء صفحه ۸ )