تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 439
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۹ سورة الجمعة قرار یافتہ عہد تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ اور انبیاء کو اپنے بروز پر غیرت نہیں ہوتی کیونکہ وہ انہی کی صورت اور انہی کا نقش ہے لیکن دوسرے پر ضرور غیرت ہوتی ہے۔ مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۵۲۹ ) جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا تھا اس کی تکمیل دو ہی زمانوں میں ہوئی تھی ۔ ایک آپ کا زمانہ اور ایک آخری مسیح و مہدی کا زمانہ۔ یعنی ایک زمانہ میں تو قرآن اور سچی تعلیم نازل ہوئی لیکن اس تعلیم پر پیج اعوج کے زمانہ نے پردہ ڈال دیا۔ جس پردہ کا اٹھایا جانا مسیح کے زمانہ میں مقدر تھا ۔ جیسے کہ فرمایا کہ رسول اکرم نے ایک تو موجودہ جماعت یعنی جماعت صحابہ کرام کا تزکیہ کیا اور ایک آنے والی جماعت کا جس کی شان میں آیا يَلْحَقُوا بِهم آیا ہے۔ سو یہ ظاہر ہے کہ خدا نے بشارت دی کہ ضلالت کے وقت اللہ تعالیٰ اس دین کو ضائع نہ کرے گا۔ بلکہ آنے والے زمانہ میں خدا حقائق قرآنیہ کو کھول دے گا۔ آثار میں ہے کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ فضیلت ہو گی کہ وہ قرآنی فہم اور معارف کا صاحب ہوگا اور صرف قرآن سے استنباط کر کے لوگوں کو ان غلطیوں سے متنبہ کرے گا جو حقائق قرآن کی نا واقفیت سے لوگوں میں پیدا ہوگئی ہوں ۔ رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ ء صفحه ۵۲، ۵۳) تمہارے معاملات خدا اور خلق کے ساتھ ایسے ہونے چاہئیں جس میں رضاء الہی مطلق ہی ہو۔ پس اس سے تم نے وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ الخ کے مصداق بننا ہے۔ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۵۷) اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ واثقہ کی رو سے کہ إِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ ( الحجر : ۱۰) اس زمانہ میں بھی آسمان سے ایک معلم آیا جو اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کا مصداق اور موعود ہے۔ وہ وہی ہے جو تمہارے درمیان بول رہا ہے۔ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۹۵) اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو جو مسیح موعود کے ساتھ ہے یہ درجہ عطا فرمایا ہے کہ وہ صحابہؓ کی جماعت سے ملنے والی ہے۔ وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ مفسروں نے مان لیا ہے کہ یہ مسیح موعود والی جماعت ہے۔ اور یہ گویا صحابہ اسی کی جماعت ہوگی اور وہ مسیح موعود کے ساتھ نہیں۔ در حقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی ساتھ ہیں۔ کیونکہ مسیح موعود آپ ہی کے ایک جمال میں آئے گا اور تکمیل تبلیغ اشاعت کے کام کے لئے مامور ہوگا۔ الحکم جلد ۴ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۰ صفحه ۳)