تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 13

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳ سورة يس نسبت یہ دعویٰ کیا جائے کہ باوجود اس کے عمر طبعی سے صدہا حصے زیادہ اس پر زمانہ گزر گیا مگر وہ نہ مرا اور نہ ارذل عمر تک پہنچا اور نہ ایک ذرہ امتداد زمانہ نے اس پر اثر کیا تو ظاہر ہے کہ ان تمام امور کا اس شخص کے ذمہ ثبوت ہوگا جو ایسا دعوے کرتا ہے یا ایسا عقیدہ رکھتا ہے کیونکہ قرآن کریم نے تو کسی جگہ انسانوں کے لئے یہ ظاہر نہیں فرمایا کہ بعض انسان ایسے بھی ہیں جو معمولی انسانی عمر سے صد ہا درجہ زیادہ زندگی بسر کرتے ہیں اور زمانہ ان پر اثر کر کے ان کو ارذل عمر تک نہیں پہنچاتا اور تنگسهُ فِي الْخَلق کا مصداق نہیں ٹھیرتا ۔ پس جبکہ یہ عقیدہ ہمارے آقا و مولیٰ کی عام تعلیم سے صریح مخالف ہے تو صاف ظاہر ہے کہ جو شخص اس کا مدعی ہو ثبوت کے ذمہ ہے۔ غرض حسب تعلیم قرآنی عمر طبعی کے اندر اندر مر جانا اور زمانہ کے اثر سے عمر کے مختلف حصوں میں گونا گوں تغیرات کا لحاظ ہونا یہاں تک کہ بشرط زندگی ارذل عمر تک پہنچنا یہ ایک فطرتی اور اصلی امر ہے جو اسی انسان کی فطرت کو لگا ہوا ہے جس کے بیان میں قرآن بھرا ہوا ہے۔ الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۰، ۱۶۱) أَوَ لَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَ نَسِيَ خَلْقَهُ قَالَ مَنْ يُحْيِ الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي انْشَاهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ نَارًا فَإِذَا اَنْتُمْ مِنْهُ تُوقِدُونَ أَوَ لَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمُوتِ وَالْأَرْضَ بِقْدِرٍ عَلَى أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ بَلَى وَهُوَ الْخَلْقُ الْعَلِيمُ ۔ کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو ایک قطرہ پانی سے پیدا کیا جو رحم میں ڈلا گیا تھا پھر وہ ایک جھگڑنے والا آدمی بن گیا۔ ہمارے لئے باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش بھول گیا اور کہنے لگا کہ یہ کیوں کر ممکن ہے کہ جبکہ ہڈیاں بھی سلامت نہیں رہیں گی تو پھر انسان نئے سرے سے زندہ ہوگا ۔ ایسی قدرت والا کون ہے جو اس کو زندہ کرے گا ان کو کہہ وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے اس کو پیدا کیا تھا اور وہ ہر ایک قسم سے اور ہر ایک راہ سے زندہ کرنا جانتا ہے ۔۔۔۔ سو ان آیات میں اللہ جل شانہ نے فرمادیا ہے کہ خدا کے آگے کوئی چیز انہونی نہیں جس نے ایک قطرۂ حقیر سے انسان کو پیدا کیا۔ کیا وہ دوسری مرتبہ پیدا