تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 427 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 427

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۷ سورة الجمعة اور یہ ظہور اسلام کے ساتھ ہوا۔ الحکم جلد ۴ نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۰ ء صفحہ ۷ ) يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ یعنی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن اور قرآنی حکمت لوگوں کو سکھلاتا ہے۔ ( شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۴۸) جیسا کہ عِيسَى عِنْدَ مَنَارَةِ دِمَشْقَ کے لفظوں سے چودہ سو کا عدد مفہوم ہوتا ہے وہ مسیح موعود چودھویں صدی کے سر پر آیا اور جیسا کہ اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کے عدد سے ۱۲۷۵ نکلتے ہیں ۔ اسی زمانہ میں وہ اصلاح خلق کے لئے طیار کیا گیا۔ ( شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۷۵) وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ یعنی نبی کریم صلی اللہ يَعْنِي يُزَكِّي النَّبِيُّ الْكَرِيمُ اخَرِينَ مِنْ علیہ وسلم اپنی امت کے آخرین کا اپنی باطنی تو جہات کے ذریعہ أُمَّتِهِ بِتَوَجَّهَاتِهِ الْبَاطِنِيَّةِ كَمَا كَانَ اسی طرح تزکیہ فرمائیں گے جیسا کہ آپ اپنے صحابہؓ کا تزکیہ يُزَكِّي صَحَابَتَهُ (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدی صفحه ۲۴۴) فرمایا کرتے تھے۔ (ترجمہ از مرتب ) اشارات نص قرآنی سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں اور آپ کا سلسلہ خلافت حضرت موسیٰ کے سلسلہ خلافت سے بالکل مشابہ ہے۔ اور جس طرح حضرت موسیٰ کو وعدہ دیا گیا تھا کہ آخری زمانہ میں یعنی جبکہ سلسلہ اسرائیلی نبوت کا انتہا تک پہنچ جائے گا اور بنی اسرائیل کئی فرقے ہو جائیں گے اور ایک دوسرے کی تکذیب کرے گا یہاں تک کہ بعض بعض کو کافر کہیں گے تب اللہ تعالیٰ ایک خلیفہ حامی دین موسی یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کو پیدا کرے گا۔ اور وہ بنی اسرائیل کی مختلف بھیڑوں کو اپنے پاس اکٹھی کرے گا اور بھیڑیئے اور بکری کو ایک جگہ جمع کر دے گا اور سب قوموں کے لئے ایک حکم بن کر اندرونی اختلاف کو درمیان سے اٹھا دے گا۔ اور بغض اور کینوں کو دور کر دے گا یہی وعدہ قرآن میں بھی دیا گیا تھا جس کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ اور حدیثوں میں اس کی بہت تفصیل ہے چنانچہ لکھا ہے کہ یہ اُمت بھی اسی قدر فرقے ہو جائیں گے جس قدر کہ یہود کے فرقے ہوئے تھے۔ اور ایک دوسرے کی تکذیب اور تکفیر کرے گا اور یہ سب لوگ عناد اور بغض باہمی میں ترقی کریں گے۔ اس وقت تک که مسیح موعود حکم ہو کر دنیا میں آوے۔ اور جب وہ حکم ہو کر آئے گا تو بغض اور شحناء کو دور کر دے گا اور اس کے زمانہ میں بھیڑیا اور بکری ایک جگہ جمع ہو جائیں گے۔ چنانچہ یہ بات تمام تاریخ جاننے والوں کو