تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 423 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 423

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۳ سورة الجمعة حکمت والا ۔ اس جگہ یہ نکتہ یادر ہے کہ آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمُ میں آخرِینَ کا لفظ مفعول کے محل پر واقع ہے گو یا تمام آیت معہ اپنے الفاظ مقدرہ کے یوں ہے هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُ الْآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ یعنی ہمارے خالص اور کامل بندے بجز صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور بھی ہیں جن کا گروہ کثیر آخری زمانہ میں پیدا ہوگا اور جیسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی تربیت فرمائی ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس گروہ کی بھی باطنی طور پر تربیت فرمائیں گے یعنی وہ لوگ ایسے زمانہ میں آئیں گے کہ جس زمانہ میں ظاہری افادہ اور استفادہ کا سلسلہ منقطع ہو جائے گا اور مذہب اسلام بہت سی غلطیوں اور بدعتوں سے پر ہو جائے گا اور فقرا کے دلوں سے بھی باطنی روشنی جاتی رہے گی تب خدا تعالیٰ کسی نفس سعید کو بغیر وسیلہ ظاہری سلسلوں اور طریقوں کے صرف نبی کریم کی روحانیت کی تربیت سے کمال روحانی تک پہنچادے گا اور اس کو ایک گروہ بنائے گا اور وہ گروہ صحابہ کے گروہ سے نہایت شدید مشابہت پیدا کرے گا کیونکہ وہ تمام و کمال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی زراعت ہوگی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان ان میں جاری وساری ہوگا اور صحابہ سے وہ ملیں گے یعنی اپنے کمالات کے رو سے اُن کے مشابہ ہو جائیں گے اور ان کو خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہی موقعے ثواب حاصل کرنے کے حاصل ہو جائیں گے جو صحابہ کو حاصل ہوئے تھے اور باعث تنہائی اور بے کسی اور پھر ثابت قدمی کے اسی طرح خدا تعالیٰ کے نزدیک صادق سمجھے جائیں گے کہ جس طرح صحابہ سمجھے گئے تھے کیونکہ یہ زمانہ بہت سی آفتوں اور فتنوں اور بے ایمانی کے پھیلنے کا زمانہ ہوگا اور راستبازوں کو وہی مشکلات پیش آجائیں گی جو صحابہ رضی اللہ عنہم کو پیش آئی تھیں اس لئے وہ ثابت قدمی دکھلانے کے بعد صحابہ کے مرتبہ پر شمار ہوں گے لیکن درمیانی زمانہ فیج اعوج ہے جس میں بباعث رعب اور شوکت سلاطین اسلام اور کثرت اسباب تنعم صحابہ کے قدم پر قدم رکھنے والے اور ان کے مراتب کو ظلی طور پر حاصل کرنے والے بہت ہی کم تھے مگر آخری زمانہ اول زمانہ کے مشابہ ہوگا کیونکہ اس زمانہ کے لوگوں پر غربت طاری ہو جائے گی اور بجز ایمانی قوت کے اور کوئی سہارا بلاؤں کے مقابلہ پر ان کے لئے نہ ہو گا سوان کا ایمان خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسا مضبوط اور ثابت ہوگا کہ اگر ایمان آسمان پر چلا جاتا تب بھی وہ اس کو زمین پر لے آتے یعنی ان پر زلزلے آئیں گے اور وہ آزمائے جائیں گے اور سخت فتنے ان کو گھیریں گے لیکن وہ ایسے ثابت قدم نکلیں گے کہ اگر ایمان افلاک