تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 412
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۲ سورة الصف اس امر کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لئے اسلام جبر سے نہیں پھیلا ۔ اللہ تعالیٰ نے خاتم الخلفاء کو پیدا کیا اور اس کا کام يَضَعُ الْحَرْب رکھ کر دوسری طرف لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ محلہ قرار دیا۔ یعنی وہ اسلام کا غلبہ مل بالکہ پر حجت اور براہین سے قائم کرے گا اور جنگ و جدال کو اُٹھا دے گا۔ وہ لوگ سخت غلطی کرتے ہیں جو کسی خونی مہدی اور خونی مسیح کا انتظار کرتے ہیں۔ (احکم جلد ۶ نمبر ۲۴ مورخه ۱۰ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۳) یہ زمانہ اس قسم کا آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے وسائل پیدا کر دیئے ہیں کہ دنیا ایک شہر کا حکم رکھتی ہے اور وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ ( التكویر : ۸) کی پیشگوئی پوری ہو گئی ہے۔ اب سب مذاہب میدان میں نکل آئے ہیں اور یہ ضروری امر ہے کہ ان کا مقابلہ ہو اور ان میں ایک ہی سچا ہوگا اور غالب آئے گا لِيُظْهِرَةً عَلَى الدِّينِ محل ہے اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ مقابلہ مذاہب کا شروع ہو گیا ہے۔ اور اسی مذہبی گشتی کا سلسلہ نری زبان تک ہی نہیں رہا، بلکہ قلم نے اس میں سے سب سے بڑھ کر حصہ لیا ہے۔ لاکھوں مذہبی رسالے شائع ہور ہے ہیں ۔ اس وقت مختلف مذاہب خصوصاً نصاری کے جو حملے اسلام پر ہو رہے ہیں۔ جو شخص ان حالات سے واقفیت رکھتا ہے اور اسے ان پر سوچنے کا موقع ملا ہے تو وہ ان ضرورتوں کو دیکھ کر بے اختیار ہو کر اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ یہ وقت ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے اسلام کی طرف زیادہ توجہ کرے۔ جو شخص اسلام پر ان حملوں کی رفتار کو دیکھتا ہے، تو وہ اس ضرورت کو محسوس کرتا ہے، لیکن جس کو کوئی خبر ہی نہیں ہے وہ ان نقصانوں کی بابت کیا کہہ سکتا ہے جو اسلام کو پہنچائے گئے ہیں۔ مسلمانوں نے نادان دوست کے رنگ میں اور غیر مذاہب والوں خصوصاً عیسائیوں نے دشمنی کے لباس میں ، وہ تو یہی کہتا ہے کہ اسلام کا کیا بگڑا ہے؟ مگر اسے معلوم نہیں کہ اسلام کی ظاہری اور جسمانی صورت میں بھی ضعف آ گیا ہے۔ وہ قوت اور شوکت اسلامی سلطنت کی نہیں اور دینی طور پر بھی وہ بات جو مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین میں سکھائی گئی تھی اس کا نمونہ نظر نہیں آتا ہے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲،۱) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَ رَسُولِهِ وَ تُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ لا ذلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ يَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلُكُمْ جَنَّتِ ۱۲ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ وَ مَسْكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّتِ عَدْنٍ ذَلِكَ الْفَوْزُ ط