تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 410 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 410

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۰ سورة الصف سو آسمانی نشان ظاہر ہو رہے ہیں ۔ اور آسمان جوش میں ہے کہ اس قدر آسمانی نشان ظاہر کرے کہ اسلام کی فتح کا نقارہ ہر ایک ملک میں اور ہر ایک حصہ دُنیا میں بچ جائے ۔ اے قادر خدا ! تو جلد وہ دن لا کہ جس فیصلہ کا تو نے ارادہ کیا ہے وہ ظاہر ہو جائے اور دُنیا میں تیرا جلال چمکے اور تیرے دین اور تیرے رسول کی فتح ہو۔ آمین ثم آمین ۔ ( چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۹۱ تا ۹۵ ) - جب ہم اس ترتیب کو دیکھتے ہیں کہ ایک طرف تو رسول اللہ کی زندگی کے دو ہی مقصد بیان فرمائے ہیں ۔ تکمیل ہدایت اور تکمیل اشاعت ہدایت اور اول الذکر کی تکمیل چھٹے دن یعنی جمعہ کے دن ہوئی ۔ جبکہ آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ نازل ہوئی اور دوسری تکمیل کے لئے بالاتفاق مانا گیا ہے کہ وہ مسیح ابن مریم یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں ہوگی ۔ سب مفسروں نے بالا تفاق لکھ دیا ہے کہ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَی کی نسبت لکھتے ہیں کہ یہ مسیح موعود کے زمانہ میں ہوگی اور جبکہ پہلی تکمیل چھٹے دن ہوئی تو دوسری تکمیل بھی چھٹے دن ہی ہونی چاہیے تھی اور قرآنی دن ایک ہزار برس کا ہوتا ہے۔ گو یا مسیح موعود چھٹے ہزار میں ہوگا۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۴ مورخہ ۲۶ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ (۳) یہ بھی وعدہ ہے کہ سارے ادیان کو جمع کیا جاوے گا اور ایک دین کو غالب کیا جاوے گا یہ بھی مسیح موعود کے وقت کی ایک جمع ہے کیونکہ لِيُظهِرَهُ عَلَى الدِّينِ محله مفسروں نے مان لیا ہے کہ مسیح موعود ہی کے وقت میں الحکم جلد ۶ نمبر ۴۳ مورخه ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۲) ہوگا۔ خدا تعالیٰ نے جو اتمام نعمت کی ہے وہ یہی دین ہے ، جس کا نام اسلام رکھا ہے ۔ پھر نعمت میں جمعہ کا دن بھی ہے جس روز اتمام نعمت ہوا ۔ یہ اس کی طرف اشارہ تھا کہ پھر اتمام نعمت جو لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّینِ محلہ کی صورت میں ہو گا وہ بھی ایک عظیم الشان جمعہ ہوگا ۔ وہ جمعہ اب آ گیا ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے وہ جمعہ مسیح موعود کے ساتھ مخصوص رکھا ہے اس لیے کہ اتمام نعمت کی صورتیں دراصل دو ہیں اوّل تکمیل ہدایت ۔ دوم تکمیل اشاعت ہدایت ۔ اب تم غور کر کے دیکھو۔ تکمیل ہدایت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کامل طور پر ہو چکی لیکن اللہ تعالیٰ نے مقدر کیا تھا کہ تکمیل اشاعت ہدایت کا زمانہ دوسرا زمانہ ہو جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بروزی رنگ میں ظہور فرماویں اور وہ زمانہ مسیح موعود اور مہدی کا زمانہ ہے۔ یہی وجہ کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ محلہ اس شان میں فرمایا گیا ہے ۔ تمام مفسرین نے بالا تفاق اس امر کو تسلیم کر لیا ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے زمانہ سے متعلق ہے۔ در حقیقت اظہار دین اسی وقت ہو سکتا ہے جبکہ