تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 10
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰ سورة يس ہیں ۔ ماسوا اس کے ہر یک جرم لطیف ہو یا کثیف قابل خرق ہے بلکہ لطیف تو بہت زیادہ فرق کو قبول کرتا ہے پھر کیا تعجب ہے کہ آسمانوں کے مادہ میں بحکم رب قدیر و حکیم ایک قسم کا فرق پیدا ہو جائے ۔ وَ ذَلِكَ عَلَى اللهِ يسير ۔ بالآخر یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ قرآن کریم کے ہر یک لفظ کو حقیقت پر حمل کرنا بھی بڑی غلطی ہے اللہ جل شانہ کا یہ پاک کلام بوجہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت کے استعارات لطیفہ سے بھرا ہوا ہے۔ سو ہمیں اس فکر میں پڑنا کہ انشقاق اور انفجار آسمانوں کا کیوں کر ہوگا در حقیقت ان الفاظ کے وسیع مفہوم میں ایک دخل بے جا ہے صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تمام الفاظ اور اس قسم کے اور بھی عالم مادی کے فنا کی طرف اشارہ ہے الہی کلام کا مدعا یہ ہے کہ اس عالم کون کے بعد فساد بھی لازم پڑا ہوا ہے ہر یک جو بنایا گیا تو ڑا جائے گا اور ہر یک ترکیب پاش پاش ہو جائے گی اور ہر یک جسم متفرق اور ذرہ ذرہ ہو جائے گا اور ہر یک جسم اور جسمانی پر عام فنا طاری ہوگی ۔ اور قرآن کریم کے بہت سے مقامات سے ثابت ہوتا ہے کہ انشقاق اور انفجار کے الفاظ جو آسمانوں کی نسبت وارد ہیں ان سے ایسے معنے مراد نہیں ہیں جو کسی جسم صلب اور کثیف کے حق میں مراد لئے جاتے ہیں ۔ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۳۸ تا ۵۱ ۱ حاشیه در حاشیه ) آفتاب چاند کو نہیں پکڑ سکتا اور نہ رات جو مظہر ماہتاب ہے دن پر جو مظہر آفتاب ہے کچھ تسلط کر سکتی ہے۔ یعنی کوئی ان میں سے اپنی حدود مقررہ سے باہر نہیں جاتا۔ اگر ان کا در پردہ کوئی مدبر نہ ہو تو یہ تمام سلسلہ درہم برہم ہو جائے ۔ یہ دلیل ہیئت پر غور کرنے والوں کے لئے نہایت فائدہ بخش ہے کیونکہ اجرام فلکی کے اتنے بڑے عظیم الشان اور بے شمار اور بے شمار گولے ہیں جن کے تھوڑے سے بگاڑ سے تمام دنیا تباہ ہو سکتی ہے۔ یہ کیسی قدرت حق ہے کہ وہ آپس میں نہ ٹکراتے ہیں نہ بال بھر رفتار بدلتے اور نہ اتنی مدت تک کام دینے سے کچھ گھسے اور نہ ان کی کلوں پرزوں میں کچھ فرق آیا۔ اگر سر پر کوئی محافظ نہیں تو کیوں کر اتنا بڑا کارخانہ بے شمار برسوں سے خود بخود چل رہا ہے۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۰) ایک اور نکتہ قابل یادداشت ہے اور وہ یہ کہ تیسری قسم کے لوگ بھی جن کا خدا تعالیٰ سے کامل تعلق ہوتا ہے اور کامل اور مصفا الہام پاتے ہیں قبول فیوض الہیہ میں برابر نہیں ہوتے اور ان سب کا دائرۂ استعداد فطرت با ہم برابر نہیں ہوتا بلکہ کسی کا دائرہ استعداد فطرت کم درجہ پر وسعت رکھتا ہے اور کسی کا زیادہ وسیع ہوتا ہے اور کسی کا بہت زیادہ اور کسی کا اس قدر جو خیال و گمان سے برتر ہے اور کسی کا خدا تعالیٰ سے رابطہ محبت قوی ہوتا ہے اور کسی کا اقوئی ۔ اور کسی کا اس قدر کہ دنیا اُس کو شناخت نہیں کر سکتی اور کوئی عقل اُس