تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 404 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 404

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لد ولد سورة الصف ایک ایسے امتی کے ہاتھ سے پورا کیا کہ جو اپنی خواور روحانیت کے رُو سے گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کا ایک ٹکڑا تھا یا یوں کہو کہ وہی تھا اور آسمان پر خالی طور پر آپ کے نام کا شریک تھا اور ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ تکمیل ہدایت کا دن چھٹا دن تھا یعنی جمعہ ۔ اس لئے رعایت تناسب کے لحاظ سے تکمیل اشاعت ہدایت کا دن بھی چھٹا دن ہی مقرر کیا گیا یعنی آخر الف ششم جو خدا کے نزدیک دنیا کا چھٹا دن ہے۔ جیسا کہ اس وعدہ کی طرف آیت لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ محلہ اشارہ فرما رہی ہے اور اس چھٹے دن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خو اور رنگ پر ایک شخص جو مظہر تجلیات احمد یہ اور محمد یہ تھا مبعوث فرمایا گیا تا تکمیل اشاعت ہدایت فرقانی اس مظہر نام کے ذریعہ سے ہو جائے ۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۵۹،۲۵۸) خدا تعالیٰ قرآن کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو منصب قائم کرتا ہے (۱) ایک کامل کتاب کو پیش کرنے والا جیسا کہ فرمایا کہ يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ (البينة : ۳، ۴) (۲) دوسری تمام دنیا میں اس اس کتاب کی اشاعت کرنے والا جیسا کہ فرماتا ہے لِيُظهِرَهُ عَلَى الدِّینِ محلہ اور تکمیل ہدایت کے لئے خدا نے چھٹا دن اختیار فرمایا۔ اس لئے یہ پہلی سنت اللہ ہمیں سمجھاتی ہے کہ تکمیل اشاعت ہدایت کا دن بھی چھٹا ہی ہے اور وہ ہزار ششم ہے اور علماء کرام اور تمام اکا بر ملت اسلام قبول کر چکے ہیں کہ تکمیل اشاعت مسیح موعود کے ذریعہ سے ہوگی ۔ اور اب ثابت ہوا کہ تکمیل اشاعت ہزار ششم میں ہوگی اس لئے نتیجہ یہ نکلا کہ مسیح موعود ہزار ششم میں مبعوث ہوگا۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۲۶۱ حاشیہ ) وہ خدا جس نے اپنے فرستادہ کو بھیجا اُس نے دو امر کے ساتھ اُسے بھیجا ہے ایک تو یہ کہ اس کو نعمت ہدایت سے مشرف فرمایا ہے یعنی اپنی راہ کی شناخت کے لئے روحانی آنکھیں اس کو عطا کی ہیں اور علم لدنی سے ممتاز فرمایا ہے اور کشف اور الہام سے اس کے دل کو روشن کیا ہے اور اس طرح پر الہی معرفت اور محبت اور عبادت کا جو اس پر حق تھا اس حق کی بجا آوری کے لئے آپ اس کی تائید کی ہے اور اس لئے اس کا نام مہدی رکھا۔ دوسرا امر جس کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے وہ دین الحق کے ساتھ روحانی بیماروں کو اچھا کرنا ہے یعنی شریعت کے صد با مشکلات اور معضلات حل کر کے دلوں سے شبہات کو دور کرنا ہے۔ پس اس لحاظ سے اس کا نام عیسیٰ رکھا ہے یعنی بیماروں کو چنگا کرنے والا ۔ غرض اس آیت شریف میں جو دو فقرے موجود ہیں ایک بالھدی اور دوسرے دین الحق ان میں سے پہلا فقرہ ظاہر کر رہا ہے کہ وہ فرستادہ مہدی ہے اور خدا کے ہاتھ سے صاف ہوا ہے اور صرف خدا اس کا معلم ہے اور دوسرا فقرہ یعنی دین الحق ظاہر کر رہا ہے کہ وہ فرستادہ عیسی ہے اور