تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 390 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 390

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۰ سورة الحشر ایک کمال ہے اس طرح پر ہوتا ہے کہ نقیض اس کی یعنی یہ امر کہ محض اپنی قدرت سے پیدا کرنے میں عاجز ہونا جب تک باہر سے کوئی مادہ آ کر معاون اور مددگار نہ ہو ایک بھاری نقصان ہے کیونکہ اگر ہم یہ فرض کریں کہ مادہ موجودہ سب جابجا خرچ ہو گیا تو ساتھ ہی یہ فرض کرنا پڑتا ہے کہ اب خدا پیدا کرنے سے قطعاً عاجز ہے حالانکہ ایسا نقص اس ذات غیر محدود اور قادر مطلق پر عائد کرنا گویا اس کی الوہیت سے انکار کرنا ہے۔ سوائے اس کے علم الہیات میں یہ مسئلہ بدلائل ثابت ہو چکا ہے کہ متجمع الکمالات ہونا واجب الوجود کا تحقق الوہیت کے واسطے شرط ہے یعنی یہ لازم ہے کہ کوئی مرتبہ کمال کا مراتب ممکن التصور سے جو ذہن اور خیال میں گزر سکتا ہے اس ذات کامل سے فوت نہ ہو۔ پس بلا شبہ عقل اس بات کو چاہتی ہے کہ کمال الوہیت باری تعالیٰ کا یہی ہے کہ سب موجودات کا سلسلہ اسی کی قدرت تک منتہی ہو نہ یہ کہ صفت قدامت اور ہستی حقیقی کے بہت سے شریکوں میں بٹی ہوئی ہو اور قطع نظر ان سب دلائل اور براہین کے ہر ایک سلیم الطبع سمجھ سکتا ہے کہ اعلیٰ کام بہ نسبت ادنی کام کے زیادہ تر کمال پر دلالت کرتا ہے پس جس صورت میں تالیف اجزاء عالم کمال الہی میں داخل ہے تو پھر پیدا کرنا عالم کا بغیر احتیاج اسباب کے جو کروڑ ہا درجہ زیادہ تر قدرت پر دلالت کرتا ہے کس قدر اعلیٰ کمال ہوگا ۔ پس صغر کی اس شکل کا بوجہ کامل ثابت ہوا۔ اور ثبوت کبری کا یعنی اس قضیہ کا کہ ہر ایک کمال ذات باری کو حاصل ہے اس طرح پر ہے کہ اگر بعض کمالات ذات باری کو حاصل نہیں تو اس صورت میں یہ سوال ہوگا کہ محرومی ان کمالات سے بخوشی خاطر ہے یا سے یا بہ مجبوری ہے۔ ۔ ۔ اگر کہو کہ بخوشی خاطر ہے تو یہ جھوٹ ہے کیونکہ کوئی شخص اپنی خوشی سے اپنے کمال میں نقص روا نہیں رکھتا اور نیز جبکہ یہ صفت قدیم سے خدا کی ذات سے قطعاً مفقود ہے تو خوشی خاطر کہاں رہی۔ اور اگر کہو کہ مجبوری سے تو وجود کسی اور قاسر کا ماننا پڑا جس نے خدا کو مجبور کیا اور نفاذ اختیارات خدائی سے اس کو روکا یا یہ فرض کرنا پڑا کہ وہ قاسر اس کا اپنا ہی ضعف اور ناتوانی ہے کوئی خارجی قاسر نہیں ۔ بہر حال وہ مجبور ٹھہر اتو اس صورت میں وہ خدائی کے لائق نہ رہا۔ پس بالضرورت اس سے ثابت ہوا کہ خدا وند تعالی داغ مجبوری سے کہ بطلان الوہیت کو مستلزم ہے پاک اور منزہ ہے اور صفت کا ملہ خالقیت اور عدم سے پیدا کرنے کی اس کو حاصل ہے اور یہی مطلب تھا۔ پرانی تحریریں روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۱ تا ۱۳ )