تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 372
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۲ سورة الحديد طریق سے رہبانیت اختیار کریں ۔ مگر ہم نے انسان پر یہ حکم فرض نہیں کئے اس لئے وہ ان بدعتوں کو پورے طور پر نبھا نہ سکے۔ خدا کا یہ فرمانا کہ ہمارا یہ حکم نہیں کہ لوگ خوجے بنیں ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اگر خدا کا حکم ہوتا تو سب لوگ اس حکم پر عمل کرنے کے مجاز بنتے تو اس صورت میں بنی آدم کی قطع نسل ہو کر کبھی کا دنیا کا خاتمہ ہو جاتا۔ اور نیز اگر اس طرح پر عفت حاصل کرنی ہو کہ عضو مردمی کو کاٹ دیں تو یہ در پردہ اس صانع پر اعتراض ہے جس نے وہ عضو بنایا اور نیز جبکہ ثواب کا تمام مدار اس بات پر ہے کہ ایک قوت موجود ہو اور پھر انسان خدا تعالیٰ کا خوف کر کے اس قوت کے خراب جذبات کا مقابلہ کرتا رہے۔ اور اس کے منافع سے فائدہ اٹھا کر دو طور کا ثواب حاصل کرے۔ پس ظاہر ہے کہ ایسے عضو کے ضائع کر دینے میں دونوں تو ابوں سے محروم رہا۔ ثواب تو جذ بہ مخالفانہ کے وجود اور پھر اس کے مقابلہ سے ملتا ہے۔ مگر جس میں بچہ کی طرح وہ قوت ہی نہیں رہی اس کو کیا ثواب ملے گا ۔ کیا بچہ کو اپنی عفت کا ثواب مل سکتا ہے؟ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۲) میں یہ نہیں کہتا کہ تم دنیا کے کاروبار چھوڑ دو۔ بیوی بچوں سے الگ ہو کر کسی جنگل یا پہاڑ میں جا بیٹھو۔ اسلام اس کو جائز نہیں رکھتا اور رہبانیت اسلام کا منشاء نہیں۔ اسلام تو انسان کو چست اور ہوشیار اور مستعد بنانا چاہتا ہے اس لئے میں تو کہتا ہوں کہ تم اپنے کاروبار کو جد و جہد سے کرو۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۱ ء صفحه ۲) خطرناک ریاضتیں کرنا اور اعضاء اور قومی کو مجاہدات میں بے کار کر دینا محض لکھی بات اور لا حاصل ہے۔ اسی لئے ہمارے ہادی کامل علیہ الصلوة والسلام نے فرما یا لا رَهْبَانِيَّةَ فِي الْإِسْلَامِ یعنی جب انسان کو صفت اسلام ( گردن نهادن بر حکم خدا و مواقفت تامه بمقادیر الهیه ) میسر آجائے تو پھر رہبانیت یعنی ایسے مجاہدوں اور ریاضتوں کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے رہبانیت کو نہیں رکھا۔ اس لئے کہ وہ معرفت تامہ کا ذریعہ نہیں ہے۔ الحکم جلد ۳ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ راگست ۱۸۹۹ صفحه ۵ ) رہبانیت اور اباحت انسان کو اس صدق اور وفا سے دور رکھتے تھے جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے اس لئے ان سے الگ رکھ کر اطاعت الہی کا حکم دے کر صدق اور وفا کی تعلیم دی جو ساری روحانی لذتوں کی جاذب ہیں ۔ الحکم جلدے نمبر ۹ مورخہ ۱۰ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۲) وہ فقیر جو دنیوی کاموں سے گھبرا کر گوشہ نشین بن جاتا ہے وہ ایک کمزوری دکھلاتا ہے ۔ اسلام میں