تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 359 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 359

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۹ سورة الواقعة جاتی ہے۔ (البدر جلد ۲ نمبر ۷ ۱ مورخہ ۲۶ را پریل ۱۹۰۶ ء صفحه ۲) خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ جس قدر پاکیزگی بڑھتی ہے اسی قدر معرفت بھی بڑھتی دوسرے علوم میں یہ شرط نہیں ۔ ریاضی ، ہندسہ و ہیئت وغیرہ میں اس امر کی شرط نہیں کہ سیکھنے والا ضرور متقی اور پرہیز گار ہو۔ بلکہ خواہ کیسا ہی فاسق و فاجر ہو وہ بھی سیکھ سکتا ہے مگر علم دین میں خشک منطقی اور فلسفی ترقی نہیں کر سکتا اور اس پر وہ حقائق اور معارف نہیں کھل سکتے جس کا دل خراب ہے اور تقویٰ سے حصہ نہیں رکھتا اور پھر کہتا ہے کہ علوم دین اور حقائق اس کی زبان پر جاری ہوتے ہیں وہ جھوٹ بولتا ہے۔ ہرگز ہرگز اُسے دین کے حقائق اور معارف سے حصہ نہیں ملتا بلکہ دین کے لطائف اور نکات کے لیے متقی ہونا شرط ہے۔ إِنَّ هَذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِينِ ۔ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳ مورخہ ۲۴ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحہ ۷ ) قرآن متقیوں کو وہ سارے امور لو وہ سارے امور یاد دلاتا ہے جو ان کی فطرت میں مخفی اور مستور تھے اور یہ حق محض ہے جو انسان کو یقین تک پہنچاتا ہے۔ جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه (۸۷)