تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 347 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 347

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۷ سورة الرحمن لگائی بلکہ صاف فرمایا ہے کہ اُس شریر پر خدا راضی نہیں کہ جو نیکی کرنے والوں سے بدی کرتا ہے۔ احسان کا بدلہ بجز احسان کے اور کچھ نہیں ۔ ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۶۷) مجموعه اشتہارات جلد اول صفحه (۴۵۹) البدر جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخه ۹ رمئی ۱۹۰۷ ء صفحه ۶) احسان کا بدلہ احسان ہے۔ قرآن میں جہاں جہاں خدا نے محسن کا ذکر فرمایا ہے وہاں کوئی شرط نہیں لگائی کہ وہ مسلمان ہو اور موحد ہو اور فلاں سلسلہ کا ہو بلکہ عام طور پر حسن کی نسبت فرمایا خواہ وہ کوئی مذہب رکھتا ہو ۔ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الاحسان کہ کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا بھی ہو سکتا ہے۔ الحکم جلد ۴ نمبر ۵ مورخه ۱۰ فروری ۱۹۰۰ صفحه ۵ ) اس سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ مسلمان احسان کرے تو اس کے بدلہ میں احسان کرو اور اگر غریب مذہب والا کرے تو نیش زنی کرو۔ یہ تو خبیث کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہی منشا ہے کہ کوئی ہو جو احسان کرتا ہے۔ اس کے ساتھ احسان کرنا فرض ہے۔ احسان کی تو یہ طاقت ہے کہ اگر ایک کتے کو تم ٹکڑا ڈال دو تو وہ بار بار تمہاری طرف آئے گا خواہ تم اُسے مار کر بھی نکالومگر وہ تمہیں دیکھ کر اس احسان کے شکریہ کے لیے دم ہلاوے گا۔ پھر وہ انسان تو کتے سے بھی بدتر ہے جو انسان ہو کر احسان شناسی سے کام نہیں لیتا۔ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۳)