تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 338

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۸ سورة الرحمن وَمَا بَقِيَتْ عَلَى صُورَتِهَا الْأُولَى فَهِی باقی نہیں رہیں پس وہ ان درختوں کی طرح ہیں جو اپنی كَأَشْجَارٍ اجْتُنَّتْ مِنَ مَغَارِسِهَا وَبَعْدَتْ جگہ سے اکھیڑے گئے اور اپنے نگہبان کی آنکھ کی آنکھوں سے مِنْ نَوَاظِرٍ حَارِسِهَا وَ نُبِنَتْ فِي مَوْمَاةٍ دور کئے گئے اور ایسے بیابان میں ڈالے گئے جہاں پانی وَقَفْرٍ وَفَلَاةٍ فَاصْفَرَّتْ أَوْرَاقُهَا وَيَبِسَتْ نہیں اور ایسے جنگل میں جہاں کوئی درخت سبز نہیں پس سَاقُهَا وَسَقَطَتْ أَثْمَارُهَا وَذَهَبَتْ ان کے پتے زرد ہو گئے اور ان کے پھل گر گئے اور ان نَضْرَتُهَا وَاخْضِرَارُهَا وَتَرَى وَجْهَهَا کی تازگی اور سبزی جاتی رہی اور تو دیکھتا ہے کہ ان کا چہرہ كَالْمَجْذُومِينَ۔ (منن الرحمن ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۸۸ تا ۱۹۳) جدا میوں کی طرح ہو گیا۔ ( ترجمہ اصل کتاب سے ) وَقَدْ سَمِعْتَ أَنَّ اللهَ جَعَلَ لَفَظَ الْبَيَانِ اور تو سن چکا ہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے صِفَةً لِلْعَرَبِيَّةِ فِي الْقُرْآنِ وَ وَصَفَ بلاغت فصاحت کو عربی کی صفت ٹھہرایا ہے اور عربی کو الْعَرَبِيَّةَ بِعَرَبِي مُبِينٍ فَهَذِهِ إِشَارَةٌ إلى عربی مبین کے لفظ سے موسوم کیا ہے۔ پس یہ بیان اس فَصَاحَتِ هُذَا اللِّسَانِ وَعُلُوّ مُقَامِهَا عِنْدَ زبان کی فصاحت کی طرف اشارہ ہے اور نیز اس کے الرَّحْمَنِ وَأَمَّا الْأَلْسِنَةُ الْأُخْرَى فَمَا مرتبہ عالیہ کی طرف ایما ہے مگر خدا تعالیٰ نے دوسری وَصَفَهَا بِهَذَا الشَّانِ بَلْ مَا عَزَاهَا إلى زبانوں کو اس وصف سے موصوف نہیں فرمایا بلکہ ان کو نَفْسِهِ لِتَعْلِيمِ الْإِنْسَانِ وَسَمَا غَيْرَ اپنی ذات کی طرف منسوب بھی نہیں فرمایا اور ان کا نام الْعَرَبِيَّةِ أَعْجَمِيًّا فَفَكَّرْ إِنْ كُنْتَ زَكِيًّا انجمی رکھا پس اگر تو زکی ہے تو اس بات کو سوچ لے اور وَطُوبَى لِلْمُتَفَكِّرِينَ (منن الرحمان، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۰۸) فَبِأَيِّ الآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّ بْنِ ۔ مبارک ہیں وہ جو اس بات کو سوچتے ہیں ۔ - ( ترجمہ اصل کتاب سے ) اس سوال کے جواب میں کہ سورۃ رحمان میں اعادہ کیوں ہوا ہے؟ فرمایا۔ ) اس قسم کا التزام اللہ تعالیٰ کے کلام کا ایک ممتاز نشان ہے۔ انسان کی فطرت میں یہ امر واقع ہوا ہے کہ موزوں کلام اسے جلد یاد ہو جاتا ہے۔ اسی لیے فرمایا وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذكر (القمر : (۲۳) یعنی بے شک