تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 323
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۳ سورة القمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی شق قمر کی یہی حکمت تھی کہ جن کو پہلی کتابوں کے علم کا نور ملا تھا وہ لوگ اس نور پر قائم نہ رہے اور ان کی دیانت اور امانت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی ۔ سو اس وقت بھی آسمان کے شق القمر نے ظاہر کر دیا کہ زمین میں جو لوگ نور کے وارث تھے انہوں نے تاریکی سے پیار کیا ہے اور اس جگہ یہ بات قابل افسوس ہے کہ مدت ہوئی کہ آسمان کا خسوف کسوف جو رمضان میں ہوا وہ جاتا رہا اور چاند اور سورج دونوں صاف اور روشن ہو گئے مگر ہمارے وہ علماء اور فقراء جو شمس العلماء اور بدر العرفاء کہلاتے ہیں وہ آج تک اپنے کسوف خسوف میں گرفتار ہیں ۔ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلدا اصفحه ۲۹۵) تمام علامتیں قرب قیامت کی ظاہر ہو چکی ہیں اور دُنیا پر ایک انقلاب عظیم آگیا ہے اور جبکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ قرب قیامت کا زمانہ ہے جیسا کہ آیت اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ سے سمجھا جاتا ہے تو پھر یہ زمانہ جس پر تیرہ سو برس اور گزر گیا اس کے آخری زمانہ ہونے میں کس کو کلام ہو سکتا ہے۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۴۳) یہ جو کہا گیا کہ قیامت کی گھڑی کا کسی کو علم نہیں۔ اس سے یہ مطلب نہیں کہ کسی وجہ سے بھی علم نہیں ۔ اگر یہی بات ہے تو پھر آثار قیامت جو قرآن شریف اور حدیث صحیح میں کہے گئے ہیں وہ بھی قابل قبول نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے ذریعہ سے بھی قرب قیامت کا ایک علم حاصل ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں لکھا تھا کہ آخری زمانہ میں زمین پر بکثرت نہریں جاری ہوں گی ۔ کتابیں بہت شائع ہوں گی جن میں اخبار بھی شامل ہیں اور اونٹ بے کار ہو جائیں گے۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سب باتیں ہمارے زمانہ میں پوری ہوگئیں اور اونٹوں کی جگہ ریل کے ذریعہ سے تجارت شروع ہو گئی ۔ سو ہم نے سمجھ لیا کہ قیامت قریب ہے اور خود مدت ہوئی کہ خدا نے آیت اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ اور دوسری آیتوں میں قرب قیامت کی ہمیں خبر دے رکھی ہے۔ سوشریعت کا یہ مطلب نہیں کہ قیامت کا وقوع ہر ایک پہلو سے پوشیدہ ہے بلکہ تمام نبی آخری زمانہ کی علامتیں لکھتے آئے ہیں اور انجیل میں بھی لکھی ہیں ۔ پس مطلب یہ ہے کہ اس خاص گھڑی کی کسی کو خبر نہیں۔ خدا قادر ہے کہ ہزار سال گزرنے کے بعد چند صدیاں اور بھی زیادہ کر دے کیونکہ کسر شمار میں نہیں آتی جیسا کہ رہے حمل کے دن بعض وقت کچھ زیادہ ہو جاتے ہیں۔ دیکھو ! اکثر بچے جو دنیا میں پیدا ہوتے ہیں وہ اکثر نو مہینے اور دس دن کے اندر پیدا ہو جاتے ہیں لیکن پھر بھی کہا جاتا ہے کہ اُس گھڑی کی کسی کو خبر نہیں۔ جب کہ دردزہ شروع ہوگا۔ اسی طرح دنیا کے خاتمے پر گواب ہزار سال باقی ہے لیکن اس گھڑی کی خبر نہیں جب قیامت قائم