تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 320
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۰ سورة القمر زمین تہ و بالا ہوگئی ہے مگر پھر بھی انتظام عالم میں فتور واقع نہیں ہوا حالانکہ جیسے چاند کو اس انتظام میں دخل ہے ویسا ہی زمین کو غرض یہ ملحدانہ شکوک انہیں لوگوں کے دلوں میں اٹھتے ہیں کہ جو خدائے تعالیٰ کو اپنے جیسا ایک ضعیف اور کمزور اور محدود الطاقت خیال کر لیتے ہیں اگر خدائے تعالیٰ پر اس قسم کے اعتراضات وارد ہو سکتے ہیں تو پھر کسی طور سے عقل تسلی نہیں پکڑ سکتی کہ یہ بڑے بڑے اجرام علوی وسفلی کیوں کر اور کن ہتھیاروں سے (سرمه چشم آریه، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۱۸ تا ۱۲۱) اس نے بنا ڈالے۔ جس حالت میں چاند کے دوٹکڑہ کرنے کا دعویٰ زور شور سے ہو چکا تھا یاں تک کہ خاص قرآن شریف میں مخالفوں کو الزام دیا گیا کہ انہوں نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا اور اعراض کر کے کہا کہ یہ پکا جادو ہے۔ اور پھر یہ دعویٰ نہ صرف عرب میں بلکہ اسی زمانہ میں تمام ممالک روم و شام و مصر و فارس و غیره دور در از ممالک میں پھیل گیا تھا تو اس صورت میں یہ بات کچھ تعجب کا محل نہ تھا کہ مختلف قو میں جو مخالف اسلام تھیں وہ دم بخود اور خاموش رہتیں اور بوجہ عناد و بغض و حسد شق القمر کی گواہی دینے سے زبان بند رکھتیں کیونکہ منکر اور مخالف کا دل اپنے کفر اور مخالفت کی حالت میں کب چاہتا ہے کہ وہ مخالف مذہب کی تائید میں کتابیں لکھے یا اس کے معجزات کی گواہی دیوے۔ ابھی تازہ واقعہ ہے کہ لالہ شرمیت و ملا وال آریه ساکنان قادیان و چند دیگر آپ کے آریہ بھائیوں نے قریب ۷۰ کے الہامی پیشگوئیاں اس عاجز کی بچشم خود پوری ہوتی دیکھیں جن میں پنڈت دیانند کی وفات کی خبر بھی تھی۔ چنانچہ اب تک چند تحریری اقرار بعضوں کے ہمارے پاس موجود پڑے ہیں لیکن آخر قوم کے طعن ملامت سے اور نیز ان کی اس دھمکی سے کہ ان باتوں کی شہادت سے اسلام کو تائید پہنچے گی نچے گی اور وہ امر ثابت ہوگا کہ جس میں پھر وید کی بھی خیر نہیں ڈر کر مونہہ بند کر لیا اور ناراستی سے پیار کر کے راستی کی شہادت سے کنارہ کش ہو گئے سو مخالف ہونے کی حالت میں اگر کوئی ادائے شہادت سے خاموش رہے تو کچھ تعجب کی بات نہیں بلکہ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اگر مخالف کی طرف سے ایک دعویٰ کا جھوٹا ہونا کھل جائے تو پھر جھوٹ کی اشاعت کے لئے قلم نہ اٹھائیں اور دروغ گو کو اس کے گھر تک نہ پہنچائیں سو میں پوچھتا ہوں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے عام اور علانیہ طور پر یہ دعوی مشہور کر دیا تھا کہ میرے ہاتھ سے معجزہ شق القمر وقوع میں آ گیا ہے اور کفار نے اس کو بچشم خود دیکھ بھی لیا ہے مگر اس یا ہے مگر اس کو جادو قرار دیا اپنے اس دعوی میں سچے نہیں تھے تو پھر کیوں مخالفین آنحضرت جو اسی زمانہ میں تھے جن کو یہ خبریں گویا نقارہ کی آواز سے پہنچ چکی تھیں چپ رہے اور کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مواخذہ نہ کیا کہ آپ نے