تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 313
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۳۱۳ سورة القمر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة القمر بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ دو اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ وَ إِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَ يَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِر وَ كَذَّبُوا وَ اتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ وَكُلُّ أَمْرٍ مُسْتَقِرٌّ لد عرب کے محاورہ میں پہلی رات کا چاند قمر کبھی نہیں کہلا تا بلکہ تین دن تک اُس کا نام ہلال ہوتا ہے اور بعض ( حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۰۳) کے نزدیک سات دن تک ہلال کہلاتا ہے۔ شق القمر کا معجزہ اہل اسلام کی نظر میں ایسا امر نہیں ہے کہ جو مدار ثبوت اسلام اور دلیل اعظم حقانیت کلام اللہ کا ٹھہرایا گیا ہو بلکہ ہزار ہا شواہد اندرونی و بیرونی وصدہا معجزات و نشانوں میں سے یہ بھی ایک قدرتی نشان ہے جو تاریخی طور پر کافی ثبوت اپنے ساتھ رکھتا ہے جس کا ذکر آئندہ عنقریب آئے گا۔ سو اگر تمام کھلے کھلے ثبوتوں سے چشم پوشی کر کے فرض بھی کر لیں کہ یہ معجزہ ثابت نہیں ہے اور آیت کے اس طور پر معنے قرار دیں جس طور پر حال کے عیسائی و نیچری یا دوسرے منکرین خوارق کرتے ہیں تو اس صورت میں بھی اگر کچھ حرج ہے تو شاید ایسا ہے کہ جیسے بیس کروڑ روپیہ کی جائیداد میں سے ایک پیسے کا نقصان ہو جائے ۔ پس اس تقریر سے ظاہر ہے کہ اگر بفرض محال اہلِ اسلام تاریخی طور پر اس معجزہ کو ثابت نہ کر سکیں تو اس عدم ثبوت کا اسلام پر کوئی بداثر نہیں پہنچ سکتا۔ سچ تو یہ ہے کہ کلام الہی نے مسلمانوں کو دوسرے معجزات سے بکلی بے نیاز کر دیا